تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 403
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۳ سورة النصر دنیا میں کوئی آدمی بھی ایسا نہیں آیا جو اتنی بڑی کامیابی اپنے ساتھ رکھتا ہو۔لذت وسرور کی موت اگر ہوئی ہے تو فقط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی ہوئی ہے اور دوسرے کسی نبی کو بھی میسر نہیں ہوئی۔یہ خدا کا فضل ہے اس لئے آپ کی عصمت کا یہ ایک بڑا ثبوت ملتا ہے جیسے طبیب اسے کہتے ہیں جو علاج کر کے مریض کو اچھا کر کے دکھلا دیوے ویسے ہی لا إله إلا الله سے ہر ایک روحانی مرض کا علاج کر کے آپ نے دکھلایا اور اس لئے دوسری تمام نبوتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ ہی معلوم ہوتی ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۲۶ مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۳ صفحہ ۱۰) اسی حمد کا ثبوت اب اس آخری وقت میں آکر دیا ہے کہ ایک احمد آیا احمد کے معنے ہیں حمد کرنے والا۔کوئی بھی ایسا آدمی نہیں ہے جو ثابت کرے کہ اس قدر کامیابی کسی اور کو ہوئی ہو۔خوشی ، پوری مراد مندی اور لذت کی موت اگر حاصل ہوئی ہے تو صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی ہے اور کسی نبی کو ہر گز نہیں ہوئی یہ خدا کا فضل ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ نفس ایسا پاک تھا کہ خدا کا اس قدر فضل ہوا اور آپ کی عصمت کا یہ ایک بڑا ثبوت ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۰۳) آنحضرت کی آمد اس وقت ہوئی کہ زمانہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : ۴۲) کا مصداق تھا۔اور گئے اس وقت جبکہ اِذا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ کی سند آپ کو مل گئی۔پس اگر آپ کو کامیابی نہ ہوتی لیکن آپ کسی کے ہاتھ سے قتل بھی نہ ہوتے تو اس سے کیا فائدہ تھا؟ اور یہ کون سا مقام فخر کا ہے۔ہاں جب ایک شخص سلطنت قائم کرتا ہے اور اپنے قائمقام مظفر ومنصور چھوڑتا ہے تو کیا پھر دشمن کی خوشی کا موجب ہوسکتا ہے ؟ بڑی سے بڑی ذلت یہ ہے کہ ناکامی اور نامرادی کی موت آوے۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کامیابی کی حالت میں اگر قتل کئے جاتے تو اس سے آپ کی شان میں کیا حرف آ سکتا تھا؟ یہ بھی لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دی گئی تھی آپ کی موت میں اس زہر کا بھی دخل تھا۔مگر ہم کہتے ہیں کہ جب آپ کی موت ایسی حالت میں ہوئی کہ کافر اس بات سے نا امید ہو گئے کہ ان کا دین پھر عود کرے گا تو ایسی حالت میں اگر آپ زہر یا قتل سے مرتے تو کون سی قابل اعتراض بات تھی ؟ دین تو تباہ نہیں ہوسکتا تھا۔(البدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخه ۴ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۵۸،۳۵۷) تم خود ہی سوچو اور مکہ کے اس انقلاب کو دیکھو کہ جہاں بت پرستی کا اس قدر چر چا تھا کہ ہر ایک گھر میں بت رکھا ہوا تھا۔آپ کی زندگی ہی میں سارا مکہ مسلمان ہو گیا اور ان بتوں کے پجاریوں ہی نے ان کو توڑا اور