تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 395

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۳۹۵ سورة النصر بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة النصر بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًان فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَابَّان حضرت مسیح کی نسبت یہ گمان کرنا کہ انہوں نے روحانی مردوں کے زندہ کرنے میں قیامت کا نمونہ دکھلایا سراسر خیال محال اور دعویٰ بے دلیل ہے بلکہ یہ قیامت کا نمونہ روحانی حیات کے بخشنے میں اس ذات کامل الصفات نے دکھلایا جس کا نام نامی محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم سارا قرآن اول سے آخر تک یہ شہادت دے رہا ہے کہ یہ رسول اس وقت بھیجا گیا تھا کہ جب تمام قومیں دنیا کی روح میں مر چکی تھیں اور فساد روحانی نے بر و بحر کو ہلاک کر دیا تھا تب اس رسول نے آ کر نئے سرے سے دنیا کو زندہ کیا اور زمین پر توحید کا دریا جاری کردیا اگر کوئی منصف فکر کرے کہ جزیرہ عرب کے لوگ اول کیا تھے اور پھر اس رسول کی پیروی کے بعد کیا ہو گئے اور کیسی ان کی وحشیانہ حالت اعلیٰ درجہ کی انسانیت تک پہنچ گئی اور کس صدق وصفا سے انہوں نے ہو۔اپنے ایمان کو اپنے خونوں کے بہانے سے اور اپنی جانوں کے فدا کرنے اور اپنے عزیزوں کو چھوڑنے اور اپنے مالوں اور عزتوں اور آراموں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں لگانے سے ثابت کر دکھلا یا تو بلاشبہ ان کی ثابت قدمی اور ان کا صدق اپنے پیارے رسول کی راہ میں ان کی جانفشانی ایک اعلیٰ درجہ کی کرامت کے رنگ میں اس کو نظر آئے گی وہ پاک نظر ان کے وجودوں پر کچھ ایسا کام کر گئی کہ وہ اپنے آپ سے کھوئے گئے اور انہوں