تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 367

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۷ سورة العصر تیسرا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا اور چوتھا ہزار شیطان کے تسلط کا اور پھر پانچواں ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا ( یہی وہ ہزار ہے جس میں ہمارے سید و مولی ختمی پناہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے اور شیطان قید کیا گیا ہے ) اور پھر چھٹا ہزار شیطان کے کھلنے اور مسلط ہونے کا زمانہ ہے جو قرونِ ثلاثہ کے بعد شروع ہوتا اور چودھویں صدی کے سر پر ختم ہو جاتا ہے۔اور پھر ساتواں ہزار خدا اور اس کے مسیح کا اور ہر ایک خیر و برکت اور ایمان اور صلاح اور تقویٰ اور توحید اور خدا پرستی اور ہر ایک قسم کی نیکی اور ہدایت کا زمانہ ہے۔اب ہم ساتویں ہزار کے سر پر ہیں۔اس کے بعد کسی دوسرے مسیح کو قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ زمانے سات ہی ہیں جو نیکی اور بدی میں تقسیم کئے گئے ہیں۔اس تقسیم کو تمام انبیاء نے بیان کیا ہے۔کسی نے اجمال کے طور پر اور کسی نے مفصل طور پر اور یہ تفصیل قرآن شریف میں موجود ہے جس سے مسیح موعود کی نسبت قرآن شریف میں سے صاف طور پر پیشگوئی نکلتی ہے۔لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۸۴ تا ۱۸۶) تمام نبیوں کی کتابوں سے اور ایسا ہی قرآن شریف سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے آدم سے لے کر اخیر تک دنیا کی عمر سات ہزار برس رکھی ہے اور ہدایت اور گمراہی کے لئے ہزار ہزار سال کے دور مقرر کئے ہیں۔یعنی ایک وہ دور ہے جس میں ہدایت کا غلبہ ہوتا ہے اور دوسرا وہ دور ہے جس میں ضلالت اور گمراہی کا غلبہ ہوتا ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا خدا تعالیٰ کی کتابوں میں یہ دونوں دور ہزار ہزار برس پر تقسیم کئے گئے ہیں۔اول دور ہدایت کے غلبہ کا تھا۔اس میں بت پرستی کا نام ونشان نہ تھا۔جب یہ ہزار سال ختم ہوا تب دوسرے دور میں جو ہزار سال کا تھا طرح طرح کی بت پرستیاں دنیا میں شروع ہو گئیں اور شرک کا بازار گرم ہو گیا اور ہر ایک ملک میں بت پرستی نے جگہ لے لی۔پھر تیسرا دور جو ہزار سال کا تھا اس میں توحید کی بنیاد ڈالی گئی اور جس قدر خدا نے چاہا دنیا میں توحید پھیل گئی۔پھر ہزار چہارم کے دور میں ضلالت نمودار ہوئی اور اسی ہزار چہارم میں سخت درجہ پر بنی اسرائیل بگڑ گئے اور عیسائی مذہب تخم ریزی کے ساتھ ہی خشک ہو گیا اور اُس کا پیدا ہونا اور مرنا گویا ایک ہی وقت میں ہوا۔پھر ہزار پنجم کا دور آیا جو ہدایت کا دور تھا۔یہ وہ ہزار ہے جس میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر تو حید کو دوبارہ دنیا میں قائم کیا۔پس آپ کے منجانب اللہ ہونے پر یہی ایک نہایت زبردست دلیل ہے کہ آپ کا ظہور اُس سال کے اندر ہوا جو روز ازل سے ہدایت کے لئے مقرر تھا اور یہ میں اپنی طرف سے نہیں