تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 285 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 285

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۲۸۵ سورة الضحى بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الضحى بیان فرموده سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ وَالضُّحى لى وَالَّيْلِ إِذَا سَجي لا مَا وَدَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى۔قرآن شریف میں ایک مقام پر رات کی قسم کھائی ہے۔کہتے ہیں کہ یہ اس وقت کی قسم ہے جب وحی کا سلسلہ بند تھا۔یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک مقام ہے جو ان لوگوں کے لئے جو سلسلہ وحی سے افاضہ حاصل کرتے ہیں آتا ہے۔وجی کے سلسلہ سے شوق اور محبت بڑھتی ہے لیکن مفارقت میں بھی ایک کشش ہوتی ہے جو محبت کے مدارج عالیہ پر پہنچاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی ایک ذریعہ قرار دیا ہے کیونکہ اس سے قلق اور کرب میں ترقی ہوتی ہے اور روح میں ایک بیقراری اور اضطراب پیدا ہوتا ہے جس سے وہ دعاؤں کی روح اس میں نفخ کی جاتی ہے۔کہ وہ آستانہ الوہیت پر یارب یارب کہہ کر اور بڑے جوش اور شوق اور جذبہ کے ساتھ دوڑتی ہے جیسا کہ ایک بچہ جو تھوڑی دیر کے لئے ماں کی چھاتیوں سے الگ رکھا گیا ہو بے اختیار ہو ہو کر ماں کی طرف دوڑتا اور چلاتا ہے اسی طرح پر بلکہ اس سے بھی بیحد اضطراب کے ساتھ روح اللہ کی طرف دوڑتی ہے اور اس دوڑ دھوپ اور قلق و کرب میں وہ لذت اور سرور ہوتا ہے جس کو ہم بیان نہیں کر سکتے۔یادر کھوروح میں جس قدر اضطراب اور بیقراری خدا تعالیٰ کے لئے ہوگی اسی قدر دعاؤں کی توفیق ملے گی اور ان میں قبولیت کا نفخ ہو گا۔غرض یہ ایک زمانہ ماموروں اور مرسلوں اور ان لوگوں پر جن کے ساتھ مکالمات الہیہ کا