تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 229
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۲۲۹ سورة الاعلى بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الاعلى بیان فرموده سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قَد أَفْلَحَ مَنْ تَزَكى بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ فلاح وہ شخص پاوے گا جو اپنے نفس میں پوری پاکیزگی اور تقویٰ طہارت پیدا کر لے اور گناہ اور معاصی کے ارتکاب کا کبھی بھی اس میں دورہ نہ ہو اور ترک شر اور کسب خیر کے دونوں مراتب پورے طور سے یہ شخص طے کر لے تب جا کر کہیں اسے فلاح نصیب ہوتی ہے۔ایمان کوئی آسان سی بات نہیں جب تک انسان مر ہی نہ جاوے جب تک کہاں ہوسکتا ہے کہ سچا ایمان حاصل ہو۔(احکم جلد ۱۲ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ مئی ۱۹۰۸ صفحه ۳) وو إن هذا لفِى الصُّحُفِ الأولى في صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسى۔خدا تعالیٰ جو اصدق الصادقین ہے اُس نے اپنی کلام میں صدق کو دو قسم قرار دیا ہے ایک صدق باعتبار ظاہر الاقوال دوسرے صدق باعتبار التاویل و المال۔پہلی قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیسی مریم کا بیٹا تھا اور ابراہیم کے دو بیٹے تھے اسمعیل و اسحاق کیونکہ ظاہر واقعات بغیر تاویل کے یہی ہیں۔دوسری قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے قرآن شریف میں کفار یا گذشتہ مومنوں کے کلمات کچھ تصرف کر کے بیان فرمائے گئے ہیں اور پھر کہا گیا کہ یہ انہی کے کلمات ہیں اور یا جو قصے توریت کے ذکر کئے گئے