تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page x
صفحہ ۵۵ ۵۹ ۵۹ ۶۰ ۶۰ ۶۲ ۶۶ ۶۷ ix مضمون عرش دنیا کی چیزوں میں سے نہیں بلکہ دنیا اور آخرت کے درمیان برزخ اور اور رب العالمین ، رحمان ، رحیم ، مالک یوم الدین کی صفات کی تجلیات کا ازلی منبع ہیں اس دن آٹھ فرشتے خدا تعالیٰ کا عرش اٹھا ئیں گے یہ استعارہ کے طور پر کلام ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کے مناسب حال ایک فرشتہ بھی پیدا کیا کیا گیا ہے عرش کوئی جسمانی چیز نہیں جو اٹھائی جائے یا اٹھائے جانے کے لائق ہو بلکہ صرف تنزہ اور تقدس کے مقام کا نام عرش ہے دنیا کا روحانی عذاب عالم معاد میں جسمانی طور پر نمودار ہوگا فاسق انسان دنیا کی زندگی ہوا و ہوس کا ایک جہنم اپنے اندر رکھتا ہے قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ جو شخص خدا پر افترا کرے ہلاک کیا جاتا ہے میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت جو فر مایا کہ اگر وہ ہمارے پر کچھ افترا کرتا تو ہم اس کو ہلاک کر دیتے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ اپنی غیرت ظاہر کرتا ہے۔۔۔۔۔دوسروں کی نسبت یہ غیرت نہیں ہے یہ بات خدا کی خدائی پر داغ لگاتی ہے کہ دنیا میں جھوٹے نبی کو وہ دائمی عزت اور قبولیت دی جائے نمبر شمار ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ ۶۱ ۶۲ ۶۳