تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 413 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 413

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۴۱۳ سورة الصف الْعَظِيمُ وَأَخْرى تُحِبُّونَهَا نَصُرُ مِنَ اللهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ اے دو لوگو! جو ایمان لائے۔کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کی طرف رہبری کروں کہ جو تم کو عذاب الیم سے نجات بخشے۔خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔اور خدا کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے کوشش کرو کہ یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔اس سے خدا تمہارے گناہوں کو بخشے گا۔اور ان بہشتوں میں داخل کرے گا۔جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ محل عطا کرے گا کہ جو پاک اور جاودانی بہشتوں میں ہیں۔یہی انسان کے لئے سعادت عظمیٰ ہے دوسری یہ ہے جسے تم اسی دُنیا میں چاہتے ہو کہ خدا کی طرف سے مدد ہے اور فتح قریب ہے۔( براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۹،۲۵۸ حاشیہ نمبر ۱۱) نمبر۱۱) اے دے لوگو جو ایمان لائے کیا تمہیں میں ایک سوداگری کی خبر دوں جو تمہیں درد ناک عذاب سے نجات دے۔یعنی یہ سوداگریاں جو تم کر رہے ہو یہ خساروں سے خالی نہیں اور ان میں آئے دن عذاب بھگتنا پڑتا ہے سو آؤ تمہیں وہ سوداگری بتلاویں جس میں نفع ہی نفع ہے اور خسارہ کا احتمال نہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا اور اس کے بھیجے ہوئے پر ایمان لاؤ اور اپنے مال اور جان کے ساتھ خدا کی راہ میں کوششیں کرو اگر تمہیں سمجھ ہو تو یہی سوداگری تمہارے لئے بہتر ہے جس سے تمہارا روحانی مال بہت بڑھ جائے گا۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۵) مال چونکہ تجارت سے بڑھتا ہے، اس لیے خدا تعالیٰ نے بھی طلب دین اور ترقی دین کی خواہش کو ایک تجارت ہی قرار دیا۔چنانچہ فرمایا ہے هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَاب الیم سب سے عمدہ تجارت دین کی ہے ، جو دردناک عذاب سے نجات دیتی ہے ، اس میں بھی خدا تعالی کے ان ہی الفاظ میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ هَلُ آدُلكُم عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ - الحام جلد ۶ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۷ار جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۵)