تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 389
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۹ سورة الحشر هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔۲۵ یعنی وہ ایسا خدا ہے کہ جسموں کا بھی پیدا کرنے والا اور روحوں کا بھی پیدا کرنے والا۔رحم میں تصویر کھینچنے والا ہے۔تمام نیک نام جہاں تک خیال میں آ سکیں سب اُسی کے نام ہیں۔اور پھر فرمایا سبحُ لَهُ مَا فِي السَّمواتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔یعنی آسمان کے لوگ بھی اس کے نام کو پاکی سے یاد کرتے ہیں اور زمین کے لوگ بھی۔اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ آسمانی اجرام میں آبادی ہے اور وہ لوگ بھی پابند خدا کی ہدایتوں کے ہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۵) ضرورت خالقیت باری تعالیٰ کو دلائل قطعیہ سے ثابت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔) دلیل چہارم۔قرآن مجید میں بذریعہ مادہ قیاس اقترانی قائم کی گئی ہے۔جاننا چاہئے کہ قیاس حجت کی تین قسموں میں سے پہلی قسم ہے۔اور قیاس اقترانی وہ قیاس ہے کہ جس میں عین نتیجہ کا یا نقیض اس کی بالفعل مذکور نہ ہو بلکہ بالقوہ پائی جائے اور اقترانی اس جہت سے کہتے ہیں کہ حدود اس کے یعنی اصغر اور اوسط اور اکبر مقترن ہوتے ہیں اور بالعموم قیاس حجت کے تمام اقسام سے اعلیٰ اور افضل ہے کیونکہ اس میں کلی کے حال سے جزئیات کے حال پر دلیل پکڑی جاتی ہے کہ جو باعث استیفا تام کے مفید یقین کامل کے ہے۔پس وہ قیاس کہ جس کی اتنی تعریف ہے اس آیت شریفہ میں درج ہے اور ثبوت خالقیت باری تعالی میں گواہی دے رہا ہے دیکھو سورہ الحشر جز و ۲۸ - هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنٰی وہ اللہ خالق ہے یعنی پیدا کنندہ ہے وہ باری ہے یعنی روحوں اور اجسام کو عدم سے وجود بخشنے والا ہے وہ مصور ہے یعنی صورت جسمیہ اور صورت نوعیہ عطا کرنے والا ہے کیونکہ اس کے لئے تمام اسماء حسنہ ثابت ہیں یعنی جمیع صفات کا ملہ جو باعتبار کمال قدرت کے عقل تجویز کر سکتی ہے اس کی ذات میں جمع ہیں۔لہذا نیست سے ہست کرنے پر بھی وہ قادر ہے۔کیونکہ نیست سے ہست کرنا قدرتی کمالات سے ایک اعلی کمال ہے اور ترتیب مقدمات اس قیاس کی بصورت مشکل اول کے اس طرح پر ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ پیدا کرنا اور محض اپنی قدرت سے وجود بخشا ایک کمال ہے اور سب کمالات ذات کامل واجب الوجود کو حاصل ہیں۔پس نتیجہ یہ ہوا کہ نیست سے ہست کرنے کا کمال بھی ذات باری کو حاصل ہے۔ثبوت مفہوم صغریٰ کا یعنی اس بات کا کہ محض اپنی قدرت سے پیدا کرنا