تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 371

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۱ سورة الحديد أَهْلُ الْأَرْضِ جَمِيعًا عَلَى أَنْ يَخْلُقُوا هَذِهِ جمع ہو جائیں تا اپنی قوت اور تدبیر سے لوہا اور ایسی ہی الْأَشْيَاءَ بِقُوَّتِهِمُ وَتَدْبِيرِهِمْ لَمْ دیگر اشیاء کو عالم وجود میں لائیں تو وہ اس بات کی ہرگز يَسْتَطِيعُوا أَبَدًا، فَكَأَتَهَا نَزَلَتْ مِنَ السَّمَاء طاقت نہیں پائیں گے۔پس گویا کہ یہ سب چیزیں (حمامة البشری ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۱۹۶) آسمان سے ہی اتری ہیں۔( ترجمہ ا مرتب ) ، ( حضرت خلیفہ اول نے عرض کیا کہ لوہا آج تک اس کثرت سے زمین سے نکلا ہے کہ اگر ایک جگہ جمع کیا جاوے تو ایک اور ہمالہ پہاڑ بنتا ہے۔لوہے کی کانوں کی آج تک تہ نہیں ملی کہ کہاں تک نیچے نیچے نکلتا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا ) خدا تعالیٰ نے بھی سونا اور چاندی کو چھوڑ کر اَنْزَلْنَا الْحَدِید ہی کہا ہے ( یعنی یہی بنی نوع انسان کے لئے زیادہ نفع رساں ہے )۔البدر جلد نمبر ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۰) بیان کیا گیا کہ آیت (زیر تفسیر )۔۔۔۔۔سے معلوم ہوتا ہے کہ حدید نے اپنا فعل بأس شدید کا تو آنحضرت صلعم کے وقت کیا کہ اس سے سامان جنگ وغیرہ تیار ہو کر کام آتا تھا مگر اس کے فعل مَنَافِعُ لِنَّاسِ کا وقت یہ مسیح اور مہدی کا زمانہ ہے کہ اس وقت تمام دنیا حدید (لوہے ) سے فائدہ اٹھا رہی ہے جیسے کہ ریل، تار، دخانی جہاز ، کارخانوں اور ہر ایک قسم کے سامان لوہے سے ظاہر ہے حضرت اقدس نے اس پر فرمایا کہ ) میں بھی سارے مضمون لوہے کے قلم ہی سے لکھتا ہوں۔مجھے بار بار قلم بنانے کی عادت نہیں ہے۔اس لئے لوہے کے قلم استعمال کرتا ہوں۔آنحضرت نے لوہے سے کام لیا ہم بھی لو ہے ہی سے لے رہے ہیں اور وہی لوہے کی قلم تلوار کا کام دے رہی ہے۔البدر جلد اوّل نمبر ۹ مورخه ۲۶/ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۶۸) ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى أَثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَهُ الْإِنْجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأفَةً وَ رَحْمَةً وَرَهْبَانِيَةَ ابْتَدَعُوهَا مَا كتبتها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا فَأَتَيْنَا الَّذِينَ امَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُم وَ كَثِيرٌ مِنْهُمْ فَسِقُونَ ) ۲۸ لوگوں نے یہ بھی طریق نکالے ہیں کہ وہ ہمیشہ عمداً نکاح سے دست بردار رہیں یا خوجے بنیں اور کسی