تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 350
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۵۰ سورة الواقعة مکاشفات کے ذریعہ سے کھلتا ہے اور عظمند لوگ دوسری علامات و آثار سے اس کی حقیقت تک پہنچتے ہیں۔سرمه چشم آریہ ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۵۷) تدَّةٌ مِنَ الاَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِنَ الْآخِرِينَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے کھلے طور پر اپنی اُمت کے حق میں فرما دیا تھا کہ تم آخری زمانہ میں بگھی یہودیوں کے قدم پر قدم رکھ کر یہودی بن جاؤ گے اور یہ بلائیں آخری زمانہ میں سب سے زیادہ مشرقی ملکوں میں پھیلیں گی یعنی ہندوستان و خراسان وغیرہ میں۔تب اس یہودیت کی بیخ کنی کے لئے مسیح ابن مریم نازل ہو گا یعنی مامور ہو کر آئے گا۔اور فرمایا کہ جیسا کہ یہ امت یہودی بن جائے گی ایسا ہی ابن مریم بھی اپنی صورت مثالی میں اسی اُمت میں سے پیدا ہوگا نہ یہ کہ یہودی تو یہ امت بنی اور ابن مریم بنی اسرائیل میں سے آوے۔ایسا خیال کرنے میں سراسر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسر شان ہے اور نیز آیت تلةٌ من الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِيْنَ کے برخلاف۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۰،۴۱۹) کیا تم وہ باتیں یاد نہیں کرتے جو عالم الغیب نے کہیں اور اس نے تمہیں ایک آنے والے امام کی قرآن کریم میں خبر دی ہے اور کہا کہ ایک گروہ پہلوں میں سے اور ایک گروہ پچھلوں میں سے ہوگا اور ہر ایک گروہ کے لئے ایک امام ہوتا ہے سو سوچو کیا اس میں کوئی کلام ہے؟ سوتم امام الآخرین سے کہاں بھاگتے ہو۔نور الحق حصہ دوم، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۱۷) وَهُهُنَا نُكْتَةٌ كَشَفِيَّةٌ لَيْسَتْ مِن اس جگہ ایک کشفی نکتہ ہے جو پہلے سننے میں نہیں الْمَسْبُوعِ فَاسْمَعْ مُصْغِيًّا وَ عَلَيْكَ آیا۔اسے پوری توجہ سکینت اور وقار سے سنیں۔اور وہ بِالْمَوْدُوع۔وَهُوَ أَنَّهُ تَعَالَى مَا اخْتَارَ لِنَفْسِهِ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے لئے چار صفات کو هُهُنَا أَرْبَعَةٌ مِنَ الصَّفَاتِ إِلَّا لِيُرى صرف اس لئے نہیں اختیار کیا ہے کہ وہ ان کا نمونہ اس تموذَجَهَا في هَذِهِ الدُّنْيَا قَبْلَ الْمَمَاتِ دُنیا میں ہماری موت سے پہلے دکھائے۔سو اللہ تعالیٰ فَأَشَارَ فِي قَوْلِهِ وَلَهُ الْحَمْدُ في الأولى نے اپنے فرمان لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ میں اس والأخرة إلى أن هذا النَّمُوذَجَ يُعْطى طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ نمونہ پہلے صدر اسلام کو دیا لِصَدْرِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ لِلْآخَرِيْنَ مِنَ الأُمَّةِ جائے گا پھر آخری زمانہ میں زوال پذیر امت کو بھی دیا ل القصص : اے