تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 330

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳ سورة القمر 91991 کیا اس وقت جبکہ ساری قوم آپ کی مخالف تھی اور کوئی ہمدرد اور رفیق نہ تھا یہ کہنا کہ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُولُونَ الدبر چھوٹی بات ہو سکتی تھی۔اسباب کے لحاظ سے تو ایسا فتوی دیا جاتا تھا کہ ان کا خاتمہ ہو جاوے گا مگر آپ ایسی حالت میں اپنی کامیابی اور دشمنوں کی ذلت اور نامرادی کی پیشگوئیاں کر رہے اور آخر اسی طرح وقوع الحکم جلدے نمبر ۱۶ مورخه ۱/۳۰ پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۲) میں آتا ہے۔اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنْبِ وَنَهَرٍ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ ) ۵۶ متقی لوگ جو خدائے تعالیٰ سے ڈر کر ہر ایک قسم کی سرکشی کو چھوڑ دیتے ہیں وہ فوت ہونے کے بعد جنات اور نہر میں ہیں صدق کی نشست گاہ میں با اقتدار بادشاہ کے پاس۔اب ان آیات کی رو سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے دخول جنت اور مقعد صدق میں تلازم رکھا ہے یعنی خدائے تعالیٰ کے پاس پہنچنا اور جنت میں داخل ہونا ایک دوسرے کا لازم ٹھہرایا گیا ہے۔سو اگر رافعك إلى (ال عمران :۵۶) کے یہی معنے ہیں جو سیح خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا تو بلاشبہ وہ جنت میں بھی داخل ہو گیا جیسا کہ دوسری آیت یعنی ارجعی إلى رَبَّكِ ( الفجر : ٢٩) جو رافِعُكَ اِلی کے ہم معنی ہے بصراحت اس پر دلالت کر رہی ہے۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھائے جانا اور گزشتہ مقربوں کی جماعت میں شامل ہو جانا اور بہشت میں داخل ہو جانا یہ تینوں مفہوم ایک ہی آن میں یورے ہو جاتے ہیں۔پس اس آیت سے بھی مسیح ابن مریم کا فوت ہونا ہی ثابت ہوا۔فَالْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِى اَحَقِّ الْحَقِّ وَابْطَلَ الْبَاطِلَ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَأَيَّدَ مَأْمُورَة (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۳۵) آیت وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا عَلِيًّا ( مریم : ۵۸) کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔) یہ امر ثابت ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے مگر ایسی موت جوعزت کے ساتھ ہو۔جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ بعد موت ان کی روحیں علیمین تک پہنچائی جاتی ہیں۔فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِياكِ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۴) مسیح علیہ السلام کا دُنیا میں دوبارہ آنا کسی طرح موجب وجاہت نہیں بلکہ آپ لوگوں کے عقیدے کے مقْتَدِدٍ - موافق اپنی حالت اور مرتبہ سے متنزّل ہو کر آئیں گے۔امتی بن کے امام مہدی کی بیعت کریں گے۔