تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 304
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۴ سورة النجم جاتے ہیں ان لوگوں کو چاہئیے کہ ہماری کوئی بات ایسی نکالیں جو حضرت عیسی کے متعلق ہم نے بطور الزامی جواب کے لکھی ہو اور وہ انجیل میں موجود نہ ہو۔آخر یہ تو ہم سے نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین سن کر چپ رہیں اور اس قسم کے جواب تو خود قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں جیسے لکھا ہے انکم الذَّكَرُ وَ لَهُ الْأُنْثَى فَاسْتَفْتِهِمُ الرَبَّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُونَ (الصافات : ۱۵۰ )۔وہ لوگ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے تھے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا تمہارے بیٹے اور ہماری بیٹیاں؟ غرض الزامی رنگ کے جواب دینا تو طریق مناظرہ ہے۔ورنہ ہم حضرت عیسی کو خدا تعالیٰ کا رسول اور ایک مقبول اور برگزیدہ انسان سمجھتے ہیں اور جن لوگوں کا دل صاف نہیں اُن کا فیصلہ ہم خدا پر چھوڑتے ہیں۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۴) کیا تمہارے لئے بیٹے اور اس کے لئے بیٹیاں۔یہ تو ٹھیک ٹھیک تقسیم نہ ہوئی۔شَيْئًا براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۰ حاشیه ) وَمَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ مراد از علم یقین است - فنون را علم نے علم سے مراد یقین ہے۔ظن کو علم نہیں کہتے۔یہ گویند - ایناں اتباع خلن میکنند - اِنَّ الظَّنَّ لا لوگ ظن کی پیروی کر رہے ہیں۔إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِی مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا - ( ترجمه از مرتب) يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا - الحکم جلدے نمبر ۵ موره ۷ فروری ۱۹۰۳ صفحه (۱۴) | ظاہر ہے کہ ظن کوئی چیز نہیں ہے اور جو شخص محض ظن کو پنجہ مارتا ہے وہ مقام بلند حق سے بہت نیچے گرا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا - یعنی محض ظن حق الیقین کے مقابلہ پر کچھ چیز نہیں۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه (۲۰۸) یا درکھو ظن مفید نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے اِنَّ الظَّنَّ لا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا یقین ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو با مراد کر سکتی ہے یقین کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔القام جلد ۶ نمبر ۴۹ مورخه ۱۰ ؍دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۱) الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبهِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّهَمَ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ