تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 293
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ا ۲۹۳ سورة النجم 60 لِاسْتِخْرَاجِ أَصْلِ حَقِيقَةِ الَّذِي هُوَ دَائِرُ اس اصل حقیقت کا استخراج اس سے ہوتا ہے جو دو بَيْنَ النِّسَانَينِ وَفِيهِ نُكْتَةٌ تُسر زبانوں میں دائر ہے اور اس میں ایک نکتہ ہے جو محققین کو خوش کرتا ہے۔الْمُحَقِّقِينَ وَأَمَّا لَفْظُ ذِي مِرَّةٍ بَمَعْنَى الْعَقْلِ لیکن لفظ ذی مرۃ جو بمعنے عقل کے آتا ہے اگر تصحیح فَإِن كُنتَ تطلبُ مِنَّا نَظِيرَهُ مَعَ نقل کے لئے اس کی نظیر معلوم کرنا ہو پس جاننا چاہیے تَصْحِيحِ النَّقْلِ فَاعْلَمُ أَنَّ صَاحِبَ تاج که صاحب تاج العروس نے جو شارح قاموس ہے لفظ الْعُرُوسِ شَارِحَ الْقَامُوسِ فَشَرَ لَفْظَ ڈی مزہ کو بمعنے ذی عقل تفسیر کیا ہے اور تمثیل کے طور ذِي مِرَّةٍ بَمَعْلَى ذِي اللَّهَاءِ ، وَقَالَ يُقَالُ إِنَّهُ لَذُو مِرَّةٍ أَى عَقْلٍ فِي مَثَلِ الْعَرَبِ الْعَرَباءِ وَإِنْ لَّمْ يَكْفِكَ هَذَا الْمَقَلُ مَعَ کہا ہے کہ عرب کے لوگ کہتے ہیں کہ انہ لذو مرۃ اور مراد اس سے انه لذو عقل رکھتے ہیں اور اگر تیرے لئے یہ مثال کافی نہ ہو حالانکہ وہ کافی ہے اور تو ایامِ أَنَّهُ هُوَ الْأَصْلِ، وَتَطْلُبُ مِنَّا نَظِيرًا أَخَرَ من الأيام الْجَاهِلِيَّةِ وَالْأَزْمِنَةِ جاہلیت کا کوئی شعر اس کی تائید میں طلب کرے تو یہ الْمَاضِيَّةِ، فَاقْرَأْ هَذَا الْبَيْتَ مِن صَاحِبِ بیت غور سے پڑھ جو سبعہ معلقہ میں سے چوتھے قصیدہ کا الْقَصِيدَةِ الرَّابِعَةِ مِنَ السَّبْعِ الْمُعَلَّقَةِ شعر ہے جس کا مؤلف ادباء زمان اور فصحاء اقران میں وَكَانَ مِنْ نُبَغَاءِ الزَّمَانِ وَفِي الْبَلاغَةِ سے تھا اور ڈیڑھ سو برس کی عمر تک پہنچا تھا۔إمَامَ الْأَقْرَانِ، وَزَادَ عُمُرُهُ عَلَى مِئَةٍ رَجَعَا بِأَمرِهِما إلى ذِي مِرَّةٍ وَخَمْسِينَ، وَهُوَ هُذَا حدٍ وَنُجْحُ قَرِيمَةٍ إِبْرَامُهَا رَجَعَا بِأَمْرِهِما إلى ذِي مِرَّةٍ وہ دونوں ذی مرہ کی طرف یعنی ذی عقل کی طرف حصد ونجح قديمة إبرامها متوجہ ہوئے اور قصد کو پختہ کرنے سے مقاصد حاصل ہو وَاعْلَمْ أَنَّ هَذِهِ الْقَصَائِدَ مَعْرُوفَةٌ جایا کرتے ہیں۔بِغَايَةِ الاِشْتِهَارِ كَالشَّمْسِ فِي نِصْفِ اور جاننا چاہیئے کہ یہ قصائد غایت درجہ پر مشہور ہیں النَّهَارِ، وَقَدْ أَجْمَعَ كَافَّةُ الْأُدَبَاءِ وَجَهَابِدُ جیسے سورج دو پہر کے وقت اور تمام جماعت فصیح شعراء نے الشُّعَرَاء عَلى فَضْلِهَا وَكَمَالِ بَرَاعَتِهَا۔اس پر اتفاق کیا ہے کہ یہ اشعار فصاحت اور بلاغت کے