تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 285
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۵ سورة النجم نہ تھا کہ روح القدس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص خاص وقتوں پر نازل ہوتا تھا اور دوسرے اوقات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے نعوذ باللہ بکلی محروم ہوتے تھے از انجملہ وہ قول ہے جو شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب مدارج النبوۃ کے صفحہ ۴۲ میں لکھا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ ملائک وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دائگی رفیق اور قرین ہیں چنانچہ وہ جامع الاصول اور کتاب الوفا سے نقل کرتے ہیں کہ ابتدائے نبوت سے تین برس برابر حضرت اسرافیل ملازم صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رہے اور پھر حضرت جبرائیل دائمی رفاقت کے لئے آئے اور بعد اس کے صاحب سفر السعادت سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سات سال کے تھے جب حضرت اسرافیل کو اللہ جل شانہ کی طرف سے حکم ہوا کہ آنحضرت صلعم کے ملازم خدمت رہیں پس اسرافیل ہمیشہ اور ہر وقت آنحضرت صلعم کے پاس رہتا تھا اور آنحضرت صلعم کی عمر کا گیارھواں سال پورا ہونے تک یہی حال تھا مگر اسرافیل بجز کلمہ دو کلمہ کے اور کوئی بات وحی کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نہیں ڈالتا تھا ایسا ہی میکائیل بھی آنحضرت کا قرین رہا۔پھر بعد اس کے حضرت جبرائیل کو حکم ہوا اور وہ پورے انتیس سال قبل از وحی ہر وقت قرین اور مصاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔پھر بعد اس کے وحی نبوت شروع ہوئی۔اس بیان سے ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جن بزرگوں نے مثلاً حضرت جبرائیل کی نسبت لکھا ہے کہ وہ نبوت سے پہلے بھی انتیس سال تک ہمیشہ اور ہر وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دائگی رفیق تھا اُن کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں ہوسکتا تھا کہ جبرائیل کسی وقت آسمان پر بھی چلا جاتا تھا کیونکہ کسی وقت چھوڑ کر چلا جانا دوام قرب اور معیت غیر منقطع کے منافی ہے لیکن جب ان بزرگوں کا دوسرا عقیدہ بھی دیکھا جائے کہ جبرائیل علیہ السلام کا قرار گاہ آسمان ہی ہے اور وہ ہر ایک وحی آسمان سے ہی لاتا ہے تو ان دونوں عقیدوں کے ملانے سے جو تناقض پیدا ہوتا ہے اس سے رہائی پانے کے لئے بجر اس کے اور کوئی راہ نہیں مل سکتی کہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ جبرائیل علیہ السلام کا آسمان سے اتر نا حقیقی طور پر نہیں بلکہ ملی ہے اور جب تمثلی طور پر اتر نا ہو تو اس میں کچھ حرج نہیں کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے تمثلی وجود سے ہمیشہ اور ہر وقت اور ہر دم اور ہر طرفہ العین انبیاء علیہم السلام کے ساتھ رہے کیونکہ وہ اپنے اصلی وجود کے ساتھ تو آسمان پر ہی ہے اور اس مذہب کی تصدیق اور تصویب شیخ عبد الحق محدث دہلی نے اپنی کتاب مدارج النبوۃ کے صفحہ ۴۵ میں کی ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ نزول جبرائیل جو بعض اوقات دحیہ کلبی کی صورت میں یا کسی اور انسان کی صورت میں ہوتا تھا اس میں اہل نظر کو اشکال ہے اور یہ اعتراض پیدا ہوتا