تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 243

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام و وو السجودِ ذلِكَ مَثَلُهُمْ فِي گزرعٍ اَخْرَجَ شَطْعَهُ فَازَرَة ۲۴۳ سورة الفتح رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَريهُمْ رُكَعًا سُجَّدًا اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے خلاف بڑا جوش رکھتے ہیں لیکن يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا آپس میں ایک دوسرے سے بہت ملاطفت کرنے والے ہیں۔جب تو سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ اثر انہیں دیکھے گا انہیں شرک سے پاک اور اللہ کا مطیع پائے گا۔وہ اللہ کے فضل اور رضا کی جستجو میں رہتے ہیں۔ان کی شناخت ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان کے ذریعہ موجود ہے یہ ان کی حالت تو رات میں بیان ہوئی ہے اور التَّورية : وَمَثَلُهُم في الإنجيل انجیل میں ان کی حالت یوں بیان ہے کہ وہ ایک کھیتی کی طرح ہوں گے جس نے پہلے تو اپنی روئیدگی نکالی پھر اس کو آسمانی اور زمینی غذا کے ذریعہ فَاسْتَغْلَظ فَاسْتَوَی عَلی سُوقه مضبوط کیا اور وہ روئیدگی اور مضبوط ہوگئی پھر اپنی جڑھ پر مضبوطی سے قائم يُعْجِبُ الوَراعَ لِيَغِيظ بهم ہو گئی یہاں تک کہ زمیندار کو پسند آنے لگ گئی۔اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ الْكُفَّارَ فَانْظُرُ كَيْفَ سَلمى محل کفار ان کو دیکھ دیکھ کر جلیں گے۔دیکھو اس آیت میں کس طرح اللہ تعالیٰ مَنْ عَادَاهُمْ كَافِرًا، وَغَضِبَ نے ہر اس شخص کا نام کا فر رکھا ہے اور اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے عَلَيْهِمْ فَاخْشَ الله وَاتَّقِ جس نے صحابہ سے دشمنی کی۔پس اللہ سے ڈرو اور ان لوگوں سے بچو الَّذِي يَغِيْظُ بِالصَّحَابَةِ كَافِرِينَ جو صحابہ سے دشمنی کی وجہ سے کافر ہو گئے ہیں۔( ترجمہ از مرتب) 99191 (سرّ الخلافة، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۳۰) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں (۱) ایک بعث محمدی جو جلالی رنگ میں ہے جو ستارہ مریخ کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ توریت قرآن شریف میں یہ آیت ہے مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِيْنَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكَفَارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ (۲) دوسرا بعث احمدی جو جمالی رنگ میں ہے جو ستارہ مشتری کی تاثیر کے نیچے ہے جس کی نسبت بحوالہ انجیل قرآن شریف میں یہ آیت ہے وَمُبَشِّرًا بِرَسُولِ يَأْتِي مِنْ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۴) مومن مومن کبھی نہیں ہو سکتا جب تک کہ کفر اس سے مایوس نہ ہو جاوے۔فتح مسیح کو ایک بار ہم نے رسالہ بھیجا اس پر اس نے لکیریں کھینچ کر واپس بھیج دیا اور لکھا کہ جس قدر دل آپ نے دکھایا ہے کسی اور نے نہیں دکھایا۔دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن نے خود اقرار کر لیا کہ ہمارا دل دُکھا۔پس ایسی مضبوطی ایمان میں پیدا کرو کہ کفر مایوس ہو جاوے کہ میرا قابو نہیں چلتا۔اشداء عَلَى الْكَفَارِ کے یہ معنی بھی ہیں۔دو بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ (الصف :( القام جلد ۸ نمبر ۱۹ مورخه ۱۰رجون ۱۹۰۴ صفحه ۱)