تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 213

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۲۱۳ سورة الاحقاف بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الاحقاف بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قُلْ اَروَيْتُمْ مَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَا ذَا خَلَقُوا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمُ شِرْكُ فِي السَّمَوتِ ايْتُونِى بِكِتَبِ مِنْ قَبْلِ هَذَا أَوْ أَثْرَةٍ مِّنْ عِلْمٍ إِنْ كُنْتُم صدِقِينَ وَ مَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ يَدْعُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنْ لَا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ وَهُمْ عَنْ دُعَابِهِمْ غُفِلُونَ ) کیا تم نے دیکھا کہ جن لوگوں کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا معبود ٹھہرا رہے ہو انہوں نے زمین میں سے کیا پیدا کیا اور یا ان کو آسمان کی پیدائش میں کوئی شراکت ہے۔اگر اس کا کوئی ثبوت تمہارے پاس ہے اور کوئی ایسی کتاب ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ فلاں فلاں چیز تمہارے معبود نے پیدا کی ہے تو لاؤ وہ کتاب پیش کرو اگر تم سچے ہو یعنی یہ تو ہو نہیں سکتا کہ یونہی کوئی شخص قادر مطلق کا نام رکھالے اور قدت کا کوئی نمونہ پیش نہ کرے اور خالق کہلائے اور خالقیت کا کوئی نمونہ ظاہر نہ کرے۔اور پھر فرماتا ہے کہ اس شخص سے زیادہ تر گمراہ کون شخص ہے کہ ایسے شخص کو خدا کر کے پکارتا ہے جو اس کو قیامت تک جواب نہیں دے سکتا۔بلکہ اس کے پکارنے سے بھی غافل ہے چہ جائیکہ اس کو جواب دے سکے۔( جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ ۱۳۷ )