تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 188
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۸ سورة الزخرف اور مال خرچ کرنے سے جلد تر دین پھیل جاتا۔ایک غریب آدمی جس کے پاس دنیا کی جائیداد میں سے کچھ بھی نہیں کیوں اس عہدہ سے ممتاز کیا گیا ( پھر آگے بطور جواب فرمایا ) أَهُم يَقْسِبُونَ رَحْمَتَ رَبَّكَ کیا قسام ازل کی رحمتوں کو تقسیم کرنا ان کا اختیار ہے۔یعنی یہ خداوند حکیم مطلق کا فعل ہے کہ بعضوں کی استعداد میں اور ہمتیں پست رکھیں اور وہ زخارف دنیا میں پھنسے رہے اور رئیس اور امیر اور دولتمند کہلانے پر پھولتے رہے اور اصل مقصود کو بھول گئے اور بعض کو فضائل روحانیت اور کمالات قدسیہ عنایت فرمائے اور وہ اس محبوب حقیقی کی محبت میں محو ہو کر مقرب بن گئے اور مقبولانِ حضرت احدیت ہو گئے۔(پھر بعد اس کے اس حکمت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو اس اختلاف استعدادات اور تباین خیالات میں مخفی ہیں ) نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم معِيشَتَهُمْ - الخ۔یعنی ہم نے اس لئے بعض کو دولت مند اور بعض کو درویش اور بعض کو لطیف طبع اور بعض کو کثیف طبع اور بعض طبیعتوں کو کسی پیشہ کی طرف مائل اور بعض کو کسی پیشہ کی طرف مائل رکھا ہے تا ان کو یہ آسانی پیدا ہو جائے کہ بعض کے لئے بعض کار برار اور خادم ہوں اور صرف ایک پر بھار نہ پڑے اور اس طور پر مہمات بنی آدم بآسانی تمام چلتے رہیں۔اور پھر فرمایا کہ اس سلسلہ میں دنیا کے مال و متاع کی نسبت خدا کی کتاب کا وجود زیادہ تر نفع رساں ہے۔یہ ایک لطیف اشارہ ہے جو ضرورت الہام کی طرف فرمایا۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ انسان مدنی الطبع ہے اور بجز ایک دوسرے کی مدد کے کوئی امر اس کا انجام پذیر نہیں ہوسکتا۔مثلاً ایک روٹی کو دیکھئے جس پر زندگانی کا مدار ہے۔اس کے طیار ہونے کے لئے کس قدر تمدن و تعاون درکار ہے۔زراعت کے ترقد سے لے کر اس وقت تک کہ روٹی پک کر کھانے کے لائق ہو جائے بیسیوں پیشہ وروں کی اعانت کی ضرورت ہے۔پس اس سے ظاہر ہے کہ عام امور معاشرت میں کس قدر تعاون اور باہمی مدد کی ضرورت ہوگی۔اسی ضرورت کے انصرام کے لئے حکیم مطلق نے بنی آدم کو مختلف طبیعتوں اور استعدادوں پر پیدا کیا تا ہر ایک شخص اپنی استعداد اور میل طبع کے موافق کسی کام میں بہ طیب خاطر مصروف ہو۔کوئی کھیتی کرے۔کوئی آلات زراعت بناوے۔کوئی آٹا پیسے۔کوئی پانی لاوے۔کوئی روٹی پکاوے کوئی سوت کاتے۔کوئی کپڑہ بنے۔کوئی دوکان کھولے۔کوئی تجارت کا اسباب لاوے۔کوئی نوکری کرے اور اس طرح پر ایک دوسرے کے معاون بن جائیں اور بعض کو بعض مدد پہنچاتے رہیں۔پس جب ایک دوسرے کی معاونت ضروری ہوئی تو ان کا ایک دوسرے سے معاملہ پڑنا بھی ضروری ہو گیا۔اور جب معاملہ اور معاوضہ میں پڑ گئے اور اس پر غفلت بھی جو استغراق امور دنیا کا خاصہ ہے عائد حال ہو گئی تو ان کے لئے ایک ایسے قانون