تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 478

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۷) — Page 184

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۴ سورة الشورى جَلَّى مَطلِعَهَا بِنُوْرٍ صِدْقِهِ وَمَا رَاحَ اور نہ شام اور اس کی اصلاح کے لئے کچھ تنگ و دو نہ کی۔عِبَيْهَا وَمَا غَدًا، بَلْ زَادَ بِكَذِبِهِ صَدَاءَ بلکہ اپنے جھوٹ کے ساتھ ذہنوں کا زنگ بڑھایا اور اپنے الْأَنْهَانِ وَنَشرَ مُفْتَرَيَاتِهِ هَبَاءَ افترا کی باتوں کے ساتھ امت میں فتنہ کی گرد و غبار پیدا کر الْإِفْتِنَانِ؟ كَلَّا بَلْ إِنَّه يُخْزِي الْمُفْتَرِينَ دی۔نہیں ایسا ہر گز نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ مفتریوں کو رسوا وَيَقْطَعُ دَابِرَ الرَّجَالِينَ وَيُلْحِقُهُمْ کرتا اور اُن کی جڑ کاٹ کر ان کے ساتھ ان کو ملا دیتا ہے جو اُن سے پہلے لعنت کئے گئے ہیں۔(ترجمہ اصل کتاب سے ) بِالْمَلْعُونِينَ السَّابِقِينَ (نجم الهدی ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۶۱، ۶۲) وَ كَذلِكَ اَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَبُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَهُ نُورًا نَّهْدِى بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِى إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ مَا الْكِتب الخ ۵۲ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشتر دو عظیم الشان نبی گزرے ہیں ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے حضرت عیسی علیہ السلام - مگر ان دونوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔اُن میں سے کسی کی نسبت نبی اُمّی ہونے کا دعوی نہیں کیا گیا یہ تحدی اور دعویٰ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَا كُنتَ تَدْرِى الحکم جلد ۴ نمبر ۱۴ مورخہ ۷ اسرا پریل ۱۹۰۰ صفحه ۳) یا درکھو کہ ہر ایک نبی کو جب تک وحی نہ ہو وہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہر ایک چیز کی اصل حقیقت تو وحی الہی سے ہی کھلتی ہے یہی وجہ تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوا مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَبُ وَلَا الْإِيمَانُ یعنی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی وحی آپ پر ہوئی تو پھر قُلْ إِنّى أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَم (الانعام : ۱۵) آپ کو کہنا پڑا اسی طرح آپ کے زمانہ وحی سے پیشتر مکہ میں بت پرستی اور شرک فسق و فجور ہوتا تھا لیکن کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ وحی الہی کے آنے سے پہلے بھی آپ نے بتوں کے خلاف وعظ کیا اور تبلیغ کی تھی لیکن جب فاضدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ ( الحجر : ۹۵) کا حکم ہوا تو پھر ایک سکنڈ کی بھی دیر نہیں کی اور ہزاروں مشکلات اور مصائب کی بھی پروا نہیں کی بات یہی ہے کہ جب کسی امر کے متعلق وحی الہی آجاتی ہے تو پھر مامور اس کے پہنچانے میں کسی کی پروا نہیں کرتے اور اس کا چھپانا اسی طرح 10: