تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page vii of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page vii

صفحہ 11 = 11 11 ۱۴ ۱۵ ۱۵ ۱۶ ۱۶ لا 19 vi نمبر شمار مضمون دابتہ الارض یعنی وہ علماء واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے اس جگہ لفظ دابتہ الارض سے ایک ایسا طائفہ انسانوں کا مراد ہے جو آسمانی روح اپنے اندر نہیں رکھتے اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَةً مِنَ الْأَرْضِ۔۔۔۔ہم ایک گروہ دابتہ الارض کا زمین میں سے سے نکالیں گے۔۔۔جن کو علم کلام اور فلسفہ میں ید طولی ہوگا دنیا کی لغو باتوں اور لغو کاموں اور اغور سیر و تماشا اور لغو صحبتوں سے واقعی طور پر اسی وقت انسان کا دل ٹھنڈا ہوتا ہے جب دل کا خدائے رحیم سے تعلق ہو جائے اور دل پر اس کی عظمت اور ہیبت غالب آجائے لغو باتوں اور لغو کاموں کو چھوڑ دینا یہی وہ حالت ہے جس کو دوسرے لفظوں میں تعلق باللہ کہتے ہیں جسمانی وجود کے تیسرے درجہ کے مقابل پر روحانی وجود کے تیسرے درجے کی تفصیل قرآن شریف ذوالمعارف ہے اور کئی وجوہ سے اس کے معنی ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد نہیں زکوۃ کا نام اسی لئے زکوۃ ہے کہ انسان اس کی بجا آوری سے یعنی اپنے مال کو جو اس کو بہت پیارا ہے اللہ دینے سے بخل کی پلیدی سے پاک ہو جاتا ہے روحانی وجود کے چوتھے درجہ کی تفصیل لفظ ر عون عرب کے محاورہ کے موافق اس وقت بولا جاتا ہے جہاں کوئی شخص اپنی قوت اور طاقت کے مطابق کسی امر کی باریک راہ پر چلنا اختیار کرتا ہے 11 ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ ۱۷ ۱۸ ۱۹