تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 423 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 423

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۳ سورة فاطر وغیرہ سامان تمام مخلوق کے واسطے بنائے ہیں۔اسی طرح سے وہ ہر ایک زمانہ میں ہر ایک قوم کی اصلاح کے واسطے وقتا فوقتا مصلح بھیجتا رہا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ہے وراِن مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ خدا تمام دنیا کا خدا ہے کسی خاص قوم سے اس کا کوئی رشتہ نہیں۔(احکم جلد ۱۲ نمبر ۳۶ مورخه ۲ رجون ۱۹۰۸ صفحه ۶) وَ مِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهُ كَذلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ۲۹ خدا سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو اہل علم ہیں۔( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۰۰) اللہ جلشانہ سے وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اس کی عظمت اور قدرت اور احسان اور حسن اور جمال پر علم کامل رکھتے ہیں۔خشیت اور اسلام در حقیقت اپنے مفہوم کے رو سے ایک ہی چیز ہے کیونکہ کمال خشیت کا مفہوم اسلام کے مفہوم کو مستلزم ہے۔پس اس آیت کریمہ کے معنوں کا مال اور ماحصل یہی ہوا کہ اسلام کے حصول کا وسیلہ کاملہ یہی علم عظمت ذات وصفات باری ہے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۸۵) ہے۔انسان کی خاصیت اکثر اور اغلب طور پر یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نسبت علم کامل حاصل کرنے سے ہدایت پالیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا ہاں جو لوگ شیطانی سرشت رکھتے ہیں وہ اس قاعدہ سے باہر ہیں۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۲۲ حاشیه ) علم سے مراد منطق یا فلسفہ نہیں ہے بلکہ حقیقی علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے عطا کرتا ہے یہ علم اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہوتا ہے (اور اس سے۔ناقل ) خشیت الہی پیدا ہوتی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا اگر علم سے اللہ تعالیٰ کی خشیت میں ترقی نہیں ہوتی تو یا درکھو کہ وہ علم ترقی معرفت کا ذریعہ نہیں ہے۔(احکم جلد سے نمبر ۲۱ مورخہ ۱۰ جون ۱۹۰۳ صفحه ۲) وہ عالم ربانی سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ صرف و نحو یا منطق میں بے مثل ہو بلکہ عالم ربانی سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور اس کی زبان بیہودہ نہ چلے مگر آج یہ زمانہ ایسا آگیا ہے کہ مردہ شو تک بھی اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں اور اس لفظ کو ذات میں داخل کر لیا ہے اس طرح پر اس لفظ کی بڑی تحقیر ہوئی ہے اور خدا تعالیٰ کے منشاء اور مقصد کے خلاف اس کا مفہوم لیا گیا ہے ورنہ قرآن شریف میں تو علماء کی یہ