تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 409
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۹ سورة الاحزاب طاعت جو در دول سے ملی ہوئی ہے فرشتے اس کو کب بجالا سکتے ہیں۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۰ حاشیه ) ہم نے اپنی امانت کو جو امانت کی طرح واپس دینی چاہیے تمام زمین و آسمان کی مخلوق پر پیش کیا پس سب نے اس امانت کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈرے کہ امانت کے لینے سے کوئی خرابی پیدا نہ ہو مگر انسان نے اس امانت کو اپنے سر پر اٹھا لیا کیونکہ وہ ظلوم اور جہول تھا۔یہ دونوں لفظ انسان کے لئے محل مدح میں ہیں نہ محل مذمت میں اور ان کے معنے یہ ہیں کہ انسان کی فطرت میں ایک صفت تھی کہ وہ خدا کے لئے اپنے نفس پر ظلم اور سختی کر سکتا تھا اور ایسا خدا تعالیٰ کی طرف جھک سکتا تھا کہ اپنے نفس کو فراموش کر دے۔اس لئے اس نے منظور کیا کہ اپنے تمام وجود کو امانت کی طرح پاوے اور پھر خدا کی راہ میں خرچ کر دے۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۳۹)