تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 372
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۲ سورة الاحزاب حصل لى هَذَا الْمَقَامُ إِلَّا مِنْ أَنْوَارٍ مقام محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کی شعاعوں کی حَصَلَ اتَّبَاعِ الْأَشِعَةِ الْمُصْطَفَوِيَّةِ وَسُمیت پیروی سے ہی ملا ہے اور اللہ تعالیٰ نے میرا نام مجازی طور نَبِيًّا مِنَ اللهِ عَلَى طَرِيقِ الْمَجَازِ لَا عَلی پر نبی رکھا ہے نہ کہ حقیقی طور پر۔پس یہاں اللہ تعالیٰ کی وَجْهِ الْحَقِيقَةِ فَلَا تَهِيجُ هُهُنَا غَيْرَةُ اللهِ غیرت یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت کے وَلَا غَيْرَةُ رَسُوْلِهِ، فَإِنِّي أُربي تحت جناح بھڑکنے کا کوئی مقام نہیں کیونکہ میری تربیت نبی کریم النبي وَقَدَين هذه تَحْتَ الأَقْدَامِ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروں کے نیچے ہوئی ہے اور میرا النبوية، ثُمَّ مَا قُلْتُ مِنْ نَفْسِى شَيْئًا۔قدم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقوش قدم کی متابعت بَلِ اتَّبَعْتُ مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مِن رَّبِّي وَمَا میں ہے اور میں نے کوئی بات اپنے پاس سے نہیں کہی بلکہ أَخَافُ بَعْدَ ذَالِك تَهْدِيد الْخَلِيقَةِ وَكُلُّ اللہ تعالیٰ نے جو میری طرف وحی کی اور اس کی پیروی کی أَحَدٍ يُسْأَلُ عَنْ عَمَلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا ہے اور اس کے بعد میں مخلوق کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا يَخْفَى عَلَى اللهِ خَافِيَةٌ اور قیامت کے دن ہر شخص اپنے عمل کے متعلق جواب دہ (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۸۹۶۸۸) ہوگا اور اللہ پر کوئی بات پوشیدہ نہیں۔( ترجمہ از مرتب ) نبی کے معنے صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔پس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا بالخصوص اس حالت میں کہ وہ امتی اپنے اس نبی متبوع سے فیض پانے والا ہو بلکہ فساد اس حالت میں لازم آتا ہے کہ اس امت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک مکالمات الہیہ سے بے نصیب قرار دیا جائے۔وہ دین ، دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی ، نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہو سکتا کہ مکالمات الہیہ سے مشرف ہو سکے۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۰۶) کوئی شخص اس جگہ نبی ہونے کے لفظ سے دھوکا نہ کھاوے میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ یہ وہ نبوت نہیں ہے جو ایک مستقل نبوت کہلاتی ہے۔کوئی مستقل نبی امتی نہیں کہلا سکتا مگر میں امتی ہوں۔پس یہ صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اعزازی نام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہوا تا حضرت عیسی سے تکمیل مشابہت ہو۔برا بین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۶۰ حاشیه )