تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 344 of 469

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 344

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۴ سورة الاحزاب بار بار طلاق دینے سے ہمدردی کے طور پر منع کرتے تھے۔یہ تو وہ باتیں ہیں جو ہم نے قرآن اور حدیث میں سے لکھی ہیں لیکن اگر کوئی اس کے برخلاف مدعی ہے تو ہماری کتب موصوف سے اپنے دعوئی کو ثابت کرے ورنہ بے ایمان اور خیانت پیشہ ہے اور یہ بات جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے نکاح پڑھ دیا اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ نکاح میری مرضی کے موافق ہے اور میں نے ہی چاہا ہے کہ ایسا ہوتا مومنوں پر حرج باقی نہ رہے۔یہ معنے تو نہیں کہ اب زینب کی خلاف مرضی اس پر قبضہ کر لو ظاہر ہے کہ نکاح پڑھنے والے کا یہ منصب تو نہیں ہوتا کہ کسی عورت کو اس کے خلاف مرضی کے مرد کے حوالہ کر دیوے بلکہ وہ تو نکاح پڑھنے میں ان کی مرضی کا تابع ہوتا ہے سو خدا تعالیٰ کا نکاح یہی ہے کہ زینب کے دل کو اس کی طرف جھکا دیا اور آپ کو فر ما دیا کہ ایسا کرنا ہوگا تا امت پر حرج نہ رہے۔اب بھی اگر کوئی باز نہ آوے تو ہمیں قرآن اور بخاری اور مسلم سے اپنے دعوے کا ثبوت دکھلاوے کیونکہ ہمارے دین کا تمام مدار قرآن شریف پر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث قرآن کی مفسر ہے اور جو قول ان دونوں کے مخالف ہو وہ مردود اور شیطانی قول ہے۔یوں تو تہمت لگا نا سہل ہے مثلا اگر کسی آریہ کو کوئی کہے کہ تیری والدہ کا تیرے والد سے اصل نکاح نہیں ہوا جبرا اس کو پکڑ لائے تھے اور اس پر کوئی اطمینان بخش ثبوت نہ دے اور مخالفانہ ثبوت کو قبول نہ کرے تو ایسے بدذات کا کیا علاج ہے۔ایسا ہی وہ شخص بھی اس سے کچھ کم بدذات نہیں جو مقدس اور راستبازوں پر بے ثبوت تہمت وہ لگاتا ہے۔ایماندار آدمی کا یہ شیوہ ہونا چاہیے کہ پہلے ان کتابوں کا صحیح صحیح حوالہ دے جو مقبول ہوں اور پھر اعتراض کرے ورنہ ناحق کسی مقدس کی بے عزتی کر کے اپنی ناپا کی فطرت کی ظاہر نہ کرے۔آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۵۵ تا ۶۳) منتفی کی مطلقہ سے نکاح کرنا زنا نہیں۔صرف منہ کی بات سے نہ کوئی بیٹا بن سکتا ہے اور نہ کوئی باپ بن سکتا ہے اور نہ ماں بن سکتی ہے مثلاً اگر کوئی عیسائی غصہ میں آکر اپنی بیوی کو ماں کہہ دے تو کیا وہ اس پر حرام ہو جائے گی اور طلاق واقع ہو جائے گی بلکہ وہ بدستور اسی ماں سے مجامعت کرتا رہے گا۔پس جس شخص نے یہ کہا کہ طلاق بغیر زنا کے نہیں ہوسکتی اس نے خود قبول کر لیا کہ صرف اپنے منہ سے کسی کو ماں یا باپ یا بیٹا کہہ دینا کچھ چیز نہیں ورنہ وہ ضرور کہہ دیتا کہ ماں کہنے سے طلاق پڑ جاتی ہے مگر شاید کہ مسیح کو وہ عقل نہ تھی جو فتح مسیح کو ہے۔اب تم پر فرض ہے کہ اس بات کا ثبوت انجیل میں سے دو کہ اپنی عورت کو ماں کہنے سے طلاق پڑ جاتی ہے یا یہ کہ اپنے مسیح کی تعلیم کو ناقص مان لو یا یہ ثبوت دو کہ بائبل کی رو سے متمنی فی الحقیقت بیٹا ہو جاتا