تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 228
۲۲۸ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النّمل رکھتیں اور آخری زمانہ میں پورے جوش اور طاقت کے ساتھ ظہور کریں گی خروج کا لفظ استعمال ہوا ہے ایسا ہی اس شخص کے بارے میں جو حدیثوں میں لکھا ہے کہ آسمانی وجی اور قوت کے ساتھ ظہور کرے گا نزول کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔سو ان دونوں لفظوں خروج اور نزول میں در حقیقت ایک ہی امر مد نظر رکھا گیا ہے۔یعنی اس بات کا سمجھانا منظور ہے کہ یہ ساری چیزیں جو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والی ہیں باعتبارا اپنی قوت ظہور کے خروج اور نزول کی صفت سے متصف کی گئی ہیں جو آسمانی قوت کے ساتھ آنے والا تھا اس کو نزول کے لفظ سے یاد کیا گیا اور جوز مینی قوت کے ساتھ نکلنے والا تھا اس کو خروج کے لفظ کے ساتھ پکارا گیا تا نزول کے لفظ کے ساتھ آنے والے کی ایک عظمت سمجھی جائے اور خروج کے لفظ سے ایک خفت اور حقارت ثابت ہو اور نیز سی بھی معلوم ہو کہ نازل خارج پر غالب ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷۳، ۳۷۴) زمینی لوگ دابتہ الارض ہیں مسیح السماء نہیں ہیں۔مسیح السماء آسمان سے اترتا ہے اور اس کا خیال آسمان کو مسح کر کے آتا ہے اور روح القدس اس پر نازل ہوتا ہے اس لئے وہ آسمانی روشنی ساتھ رکھتا ہے لیکن دابتہ الارض کے ساتھ زمین کی غلاظتیں ہوتیں ہیں اور نیز وہ انسان کی پوری شکل نہیں رکھتا بلکہ اس کے بعض اجزاء مسخ شدہ بھی ہوتے ہیں۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۷۴،۵۷۳) احادیث میں دابتہ الارض کو بھی ایک خاص نام رکھ کر بیان کیا ہے لیکن احادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی استعمال کی رو سے عام ہے اور دابتہ الارض کو صحیح مسلم میں ایسے پیرایہ سے ذکر کیا گیا ہے کہ ایک طرف تو اس کو دجال کی جساسہ ٹھہرا دیا گیا ہے اور اس کی رفیق اور اسی جزیرہ میں رہنے والی جہاں وہ ہے اور ایک طرف حرم مکہ معظمہ میں صفا کے نیچے اس کو جگہ دے رکھی ہے گویا وہ اس ارض مقدس کے نیچے ہے نہ دجال کے پاس اور بیان کیا گیا ہے کہ اس میں سے اس کا خروج ہوگا۔اس استعارہ سے یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ دابتہ الارض در حقیقت اہم جسم سے ایسے علماء کے لئے ہے جو ذ و چین واقع ہیں۔ایک تعلق ان کا دین اور حق سے ہے اور ایک تعلق ان کا دنیا اور دجالیت سے۔اور آخری زمانہ میں ایسے مولویوں اور ملاؤں کا پیدا ہونا کئی جگہ بخاری میں لکھا ہے۔چنانچہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ لوگ حدیث خیر البریہ پڑھیں گے اور قرآن کی بھی تلاوت کرتے ہوں گے لیکن قرآن ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔سو یہ وہی زمانہ ہے۔انہیں لوگوں کی ملاقات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے اور فرمایا ہے فَاعْتَزِلُ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ اَنْ تَعُضّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۹۳، ۵۹۴) أنتَ عَلى ذلِك - صفحہ ۵۰۹ بخاری۔لے 1 نقل مطابق اصل اسم جنس“ پڑھا جائے۔ناشر