تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 191
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۱ سورة الفرقان موسوم ہو سکتا ہے بلکہ امام کی حقیقت کوئی اور امر جامع اور حالت کا ملہ تامہ ہے جس کی وجہ سے آسمان پر اس کا نام امام ہے؟ اور یہ تو ظاہر ہے کہ صرف تقویٰ اور طہارت کی وجہ سے کوئی شخص امام نہیں کہلا سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا پس اگر ہر ایک متقی امام ہے تو پھر تمام مومن منتقی امام ہی ہوئے اور یہ امر منشاء آیت کے برخلاف ہے۔ضرورت الامام ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۴۷۲، ۴۷۳) انسان کو سوچنا چاہیے کہ اسے اولاد کی خواہش کیوں ہوتی ہے؟ کیونکہ اس کو محض طبعی خواہش ہی تک محدود نہ کر دینا چاہیے کہ جیسے پیاس لگتی ہے یا بھوک لگتی ہے لیکن جب یہ ایک خاص اندازہ سے گزر جاوے تو ضرور اس کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: ۵۷)۔اب اگر انسان خود مومن اور عبد نہیں بنتا ہے اور اپنی زندگی کے اصل منشا کو پورا نہیں کرتا ہے اور پورا حق عبادت ادا نہیں کرتا بلکہ فسق و فجور میں زندگی بسر کرتا ہے اور گناہ پر گناہ کرتا ہے تو ایسے آدمی کی اولاد کے لئے خواہش کیا نتیجہ رکھے گی صرف یہی کہ گناہ کرنے کے لئے وہ اپنا ایک اور خلیفہ چھوڑنا چاہتا ہے خود کون سی کمی کی ہے جو اولاد کی خواہش کرتا ہے۔پس جب تک اولاد کی خواہش محض اس غرض کے لئے نہ ہو کہ وہ دیندار اور متقی ہو اور خدا تعالیٰ کی فرمانبردار ہو کر اس کے دین کی خادم بنے بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے اور باقیات صالحات کی بجائے اس کا نام باقیات سیئات رکھنا جائز ہوگا۔لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں صالح اور خدا ترس اور خادم دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو اس کا یہ کہنا بھی نرا ایک دعوی ہی دعویٰ ہو گا جب تک کہ خود وہ اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کرے اگر خود فسق و فجور کی زندگی بسر کرتا ہے اور منہ سے کہتا ہے کہ میں صالح اور متقی اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو وہ اپنے اس دعوئی میں کذاب ہے۔صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو متقیا نہ زندگی بنادے تب اس کی ایسی خواہش ایک نتیجہ خیز خواہش ہوگی اور ایسی اولاد حقیقت میں اس قابل ہوگی کہ اس کو باقیات صالحات کا مصداق کہیں لیکن اگر یہ خواہش صرف اس لئے ہو کہ ہمارا نام باقی رہے اور وہ ہمارے املاک و اسباب کی وارث ہو یا وہ بڑا نامور اور مشہور آدمی ہو اس قسم کی خواہش میرے نزدیک شرک ہے۔یا درکھو کسی نیکی کو بھی اس لئے نہیں کرنا چاہیے کہ اس نیکی کے کرنے پر ثواب یا اجر ملے گا کیونکہ اگر محض اس خیال پر نیکی کی جاوے تو وہ ابتغاء مرضات اللہ نہیں ہو سکتی بلکہ اس ثواب کی خاطر ہوگی اور اس سے اندیشہ