تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۶) — Page 127
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۷ سورة النُّور باتوں کو بھلا دیا اور ہمیشہ کے لئے علماء کو ان کی عقل اور اجتہاد پر چھوڑ دیا اور حضرت موسیٰ کی نسبت تو صاف فرمایا وَ كَلَّمَ اللهُ مُوسَى تَكْلِيمًا - رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حَجَةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ، وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (النساء : ۱۲۶،۱۶۵) یعنی خدا موسیٰ سے ہمکلام ہوا اور اس کی تائید اور اور تصدیق کے لئے رسول بھیجے جو مبشر اور مندر تھے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت باقی نہ رہے اور نبیوں کا مسلسل گروہ دیکھ کر توریت پر دلی صدق سے ایمان لاویں۔اور فرمایا رُسُلاً قَد قَصَصْنَهُمْ عَلَيْكَ۔۔۔۔وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ (النساء : ۱۲۵) یعنی ہم نے بہت سے رسول بھیجے اور بعض کا تو ہم نے ذکر کیا اور بعض کا ذکر بھی نہیں کیا لیکن دین اسلام کے طالبوں کے لئے وہ انتظام نہ کیا گویا جو رحمت اور عنایت باری حضرت موسیٰ کی قوم پر تھی وہ اس امت پر نہیں ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ ہمیشہ امتداد زمانہ کے بعد پہلے معجزات اور کرامات قصہ کے رنگ میں ہو جاتے ہیں اور پھر آنے والی نسلیں اپنے گروہ کو ہر ایک امر خارق عادت سے بے بہرہ دیکھ کر آخر گذشته معجزات کی نسبت شک پیدا کرتی ہیں پھر جس حالت میں بنی اسرائیل کے ہزار ہا انبیاء کا نمونہ آنکھوں کے سامنے ہے تو اس سے اور بھی بے دلی اس امت کو پیدا ہوگی اور اپنے تئیں بدقسمت پا کر بنی اسرائیل کو رشک کی نگہہ سے دیکھیں گے یا بد خیالات میں گرفتار ہوکر ان کے قصوں کو بھی صرف افسانجات خیال کریں گے اور یہ قول کہ پہلے اس سے ہزار ہا انبیاء ہو چکے اور معجزات بھی بکثرت ہوئے اس لئے اس امت کو خوارق اور کرامات اور برکات کی کچھ ضرورت نہیں تھی لہذا خدا تعالیٰ نے ان کو سب باتوں سے محروم رکھا۔یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں جنہیں وہ لوگ منہ پر لاتے ہیں جن کو ایمان کی کچھ بھی پرواہ نہیں ورنہ انسان نہایت ضعیف اور ہمیشہ تقویت ایمان کا محتاج ہے اور اس راہ میں اپنے خود ساختہ دلائل بھی کام نہیں آسکتے جب تک تازہ طور پر معلوم نہ ہو کہ خدا موجود ہے ہاں جھوٹا ایمان جو بدکاریوں کو روک نہیں سکتا نقلی اور عقلی طور پر قائم رہ سکتا ہے اور اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ دین کی تکمیل اس بات کو مستلزم نہیں جو اس کی مناسب حفاظت سے بکلی دستبردار ہو جائے مثلاً اگر کوئی گھر بناوے اور اس کے تمام کمرے سلیقہ سے طیار کرے اور اس کی تمام ضرورتیں جو عمارت کے متعلق ہیں باحسن وجہ پوری کر دیوے اور پھر مدت کے بعد اندھیریاں چلیں اور بارشیں ہوں اور اس گھر کے نقش ونگار پر گردو غبار بیٹھ جاوے اور اس کی خوبصورتی ٹھپ جاوے اور پھر اس کا کوئی وارث اس گھر کو صاف اور سفید کرنا چاہے مگر اس کو منع کر دیا جاوے کہ گھر تو مکمل ہو چکا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ منع کرنا سراسر حماقت ہے افسوس کہ ایسے اعتراضات کرنے والے نہیں سوچتے کہ تکمیل شے دیگر ہے اور وقتا فوقتاً