تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 54

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۴ سورة النحل پھر جب کہ یہ سلسلہ رقم کا بغیر شرط راستبازی اور معصومیت اور نیکوکاری انسانوں کی دنیا میں پایا جاتا ہے اور صریح قانون قدرت اس کی گواہی دے رہا ہے تو پھر کیوں کر اس سے انکار کر دیا جاوے اور اس نئی اور خلاف صحیفہ فطرت کے عقیدہ پر کیوں کر ایمان لایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا رحم انسانوں کی راستبازی سے وابستہ ہے اللہ جل شانہ نے قرآن شریف کے کئی مقامات میں نظیر کے طور پر وہ آیات پیش کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کیوں کر سلسلہ رحم کا نہایت وسیع دائرہ کے ساتھ تمام مخلوقات کو مستفیض کر رہا ہے چنانچہ اللہ جل شانہ b ج فرماتا ہے اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّبُوتِ وَالْأَرْضَ وَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِى فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَرَ وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دابِبَيْنِ ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارِ وَالْكُم مِّنْ كُلِ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۖ وَ إِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا (ابراهیم : ۳۳ تا ۳۵) پس ۱۳ ، ۱۷۔پھر فرماتا ہے وَالْأَنْعَام خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْ وَمَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَأْكُلُونَ اور پھر فرماتا ہے وَهُوَ الَّذِى سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا (النحل : ۱۸) اور پھر فرماتا ہے وَاللهُ انْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (النحل : ۶۶ ) ان تمام آیات سے خدا تعالیٰ نے اپنی کلام کریم میں صاف قانون قدرت کا ثبوت دے دیا ہے کہ اس کا رحم بلا شرط ہے کسی کی راستبازی کی شرط نہیں ہاں جرائم کا سلسلہ قانون الہی کے نکلنے سے شروع ہوتا ہے جیسا کہ آپ خود مانتے ہیں اور اسی وقت عدل کی صفت کے ظہور کا زمانہ آتا ہے گو عدل ایک ازلی صفت ہے مگر آپ اگر ذرہ زیادہ غور کریں گے تو سمجھ جائیں گے کہ صفات کے ظہور میں حادثات کی رعایت سے ضرور تقدیم تاخیر ہوتی ہے پھر جب کہ گناہ اس وقت سے شروع ہوا کہ جب کتاب الہی نے دنیا میں نزول فرمایا اور پھر اس نے خوارق و نشانوں کے ساتھ اپنی سچائی بھی ثابت کی تو پھر رحم بلا مبادلہ کہاں رہا۔کیونکہ رحم کا سلسلہ تو پہلے ہی سے بغیر شرط کسی کی راستبازی کے جاری ہے اور جو گناہ خدا تعالیٰ کی کتاب نے پیش کئے وہ مشروط بشرائط ہیں یعنی یہ کہ جس کو وہ احکام پہنچائے گئے ہیں اس پر وہ بطور حجت کے وارد ہوں اور وہ دیوانہ اور مجنون بھی نہ ہو۔(جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۱۹ تا ۲۲۱) وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ، اَمْوَاتٌ