تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 365

۳۶۵ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانبياء سورۃ فاتحہ میں جواللہ تعالیٰ کی صفات اربعہ بیان ہوئی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان چاروں صفات کے مظہر کامل تھے۔مثلاً پہلی صفت رب العالمین ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بھی مظہر ہوئے جبکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ جیسے رب العالمین عام ربوبیت کو چاہتا تھا اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات اور آپ کی ہدایت و تبلیغ کل دنیا اور کل عالموں کے لئے قرار پائی۔الحکم جلدے نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۳ صفحه ۲۰) یعنی اے رسول ہم نے تجھ کو رحمت للعالمین کر کے بھیجا ہے۔احکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۷ رنومبر ۱۹۰۵ صفحه ۷ ) فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ أَذَنْتُكُمْ عَلَى سَوَاءٍ وَ اِنْ اَدْرِى أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيدٌ مَّا توعدون قرآن شریف میں ان آذری اَقَرِيبٌ اَم بَعِيدٌ مَا تُوعَدُونَ ) میں نہیں جانتا کہ عذاب کے نزول کا وقت قریب ہے یا بعید ) صاف بتاتا ہے کہ ہر ایک عذاب کی مقررہ تاریخ نہیں بتائی جاتی۔بدر جلد نمبر ۸ مورخه ۲۵ مئی ۱۹۰۵ء صفحه ۶)