تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 353

۳۵۳ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانبياء اور روح القدس شیطان کی ضد ہے۔پس جب شیطان کا ظہور ہوا تو اس کا اثر مٹانے کے لئے رُوح القدس کا ظہور ضروری ہوا۔جس طرح شیطان بدی کا باپ ہے رُوح القدس نیکی کا باپ ہے۔انسان کی فطرت کو دو مختلف جذبے لگے ہوئے ہیں (۱) ایک جذبہ بدی کی طرف جس سے انسان کے دل میں بُرے خیالات کا اور بدکاری اور ظلم کے تصورات پیدا ہوتے ہیں۔یہ جذبہ شیطان کی طرف سے ہے اور کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان کی فطرت کے لازم حال یہ جذبہ ہے۔گو بعض قو میں شیطان کے وجود سے انکار بھی کریں لیکن اس جذبہ کے وجود سے انکار نہیں کر سکتے۔(۲) دوسرا جذ بہ نیکی کی طرف ہے جس سے انسان کے دل میں نیک خیالات اور نیکی کرنے کی خواہشیں پیدا ہوتی ہیں اور یہ جذبہ رُوح القدس کی طرف سے ہے۔اور اگر چہ قدیم سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے یہ دونوں قسم کے جذبے انسان میں موجود ہیں لیکن آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا کہ پورے زور شور سے یہ دونوں قسم کے جذبے انسان میں ظاہر ہوں۔اس لئے اس زمانہ میں بروزی طور پر یہودی بھی پیدا ہوئے اور بروزی طور پر مسیح ابن مریم بھی پیدا ہوا۔اور خدا نے ایک گروہ بدی کا محرک پیدا کر دیا جو وہی پہلا نحاش بروزی رنگ میں ہے۔اور دوسرا گروہ نیکی کا محرک پیدا کر دیا جو مسیح موعود کا گروہ ہے۔غرض پہلا بروز گروہ نحاش ہے اور دوسرا بروز مسیح اور اس کا گروہ اور تیسرا بروز ان یہودیوں کا گروہ ہے جن سے بچنے کے لئے سورہ فاتحہ میں دُعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سکھائی گئی اور چوتھا بروز صحابہ رضی اللہ عنہم کا بروز ہے جو بموجب آیت وَ أَخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم ضروری تھا اور اس حساب سے ان بروزوں کی لاکھوں تک نوبت پہنچتی ہے۔اس لئے یہ زمانہ رجعت بروزی کا زمانہ کہلاتا ہے۔تحفہ گولار و سید، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۲۱ تا ۳۲۵ حاشیه ) یا جوج ماجوج دو قو میں ہیں جن کا پہلی کتابوں میں ذکر ہے اور اس نام کی یہ وجہ ہے کہ وہ امیج سے یعنی آگ سے بہت کام لیں گی اور زمین پر ان کا بہت غلبہ ہو جائے گا اور ہر ایک بلندی کی مالک ہو جائیں گی۔تب اُسی زمانہ میں آسمان سے ایک بڑی تبدیلی کا انتظام ہوگا اور صلح اور آشتی کے دن ظاہر ہوں گے۔لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۱۱) جیسا کہ قرآن شریف میں عیسائیت کے فتنہ کا ذکر ہے ایسا ہی یا جوج ماجوج کا ذکر ہے اور اس آیت میں که هُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ان کے غلبہ کی طرف اشارہ ہے کہ تمام زمین پر اُن کا غلبہ ہو جائے گا اب اگر دجال اور عیسائیت اور یا جوج ماجوج تین علیحدہ تو میں سمجھیں جائیں جو مسیح کے وقت ظاہر ہوں گی تو اور بھی