تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 342
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۲ سورة الانبياء خدا اس میں اپنی روح پھونک دیتا ہے جو کہ ابن مریم بن جاتی ہے۔زمخشری نے بھی اس کے یہی معنے کئے ہیں کہ یہ آیت عام ہے اور اگر یہ معنی نہ کئے جاویں تو حدیث شریف میں آیا ہے کہ مریم اور ابن مریم کے سوا مس شیطان سے کوئی محفوظ نہیں۔اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ تمام انبیاء پر شیطان کا دخل تھا پس در اصل اس آیت میں بھی اشارہ ہے کہ ہر ایک مومن جو اپنے تئیں اس کمال کو پہنچائے۔خدا کی روح اس میں پھونکی جاتی ہے اور وہ ابنِ مریم بن جاتا ہے اور اس میں ایک پیشگوئی ہے کہ اس امت میں ابنِ مریم پیدا ہو گا تعجب ہے کہ لوگ اپنے بیٹوں کا نام محمد اور عیسی اور موسیٰ اور یعقوب اور اسحاق اور اسماعیل اور ابراہیم رکھ لیتے ہیں اور ا اس کو جائز جانتے ہیں پر خدا کے لئے جائز نہیں جانتے کہ وہ کسی کا نام عیسی یا ابن مریم رکھ دے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۸ مورخه ۳۱ جولائی ۱۹۰۱ صفحه ۴) کون شخص اس سے انکار کر سکتا ہے کہ ابتدائے زمانہ کے بعد دنیا پر بڑے بڑے انقلاب آئے۔پہلے زمانہ کے لوگ تھوڑے تھے اور زمین کے چھوٹے سے قطعہ پر آباد تھے اور پھر وہ زمین کے دُور دُور کناروں تک پھیل گئے اور زبانیں بھی مختلف ہو گئیں اور اس قدر آبادی بڑھی کہ ایک ملک دوسرے ملک سے ایک علیحدہ دنیا کی طرح ہو گیا تو ایسی صورت میں کیا ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک ملک کے لئے الگ الگ نبی اور رسول بھیجتا اور کسی ایک کتاب پر کفایت نہ رکھتا۔ہاں جب دنیا نے پھر اتحاد اور اجتماع کے لئے پلٹا کھایا اور ایک ملک کو دوسرے ملک سے ملاقات کرنے کے لئے سامان پیدا ہو گئے اور باہمی تعارف کے لئے انواع و اقسام کے ذرائع اور وسائل نکل آئے۔تب وہ وقت آگیا کہ قومی تفرقہ درمیان سے اٹھا دیا جائے اور ایک کتاب کے ماتحت سب کو کیا جائے تب خدا نے سب دُنیا کے لئے ایک ہی نبی بھیجا تا وہ سب قوموں کو ایک ہی مذہب پر جمع کرے اور تاوہ جیسا کہ ابتداء میں ایک قوم تھی آخر میں بھی ایک ہی قوم بنادے۔اور یہ ہمارا بیان جیسا کہ واقعات کے موافق ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کے موافق ہے جوزمین و آسمان میں پایا جاتا ہے کیونکہ اگر چہ اُس نے زمین کو الگ تاثیرات بخشی ہیں اور چاند کو الگ اور ہر ایک ستارہ میں جدا جدا قو تیں رکھی ہیں مگر پھر بھی باوجود اس تفرقہ کے سب کو ایک ہی نظام میں داخل کر دیا ہے اور تمام نظام کا پیشر و آفتاب کو بنایا ہے جس نے ان تمام سیاروں کو انجن کی طرح اپنے پیچھے لگا لیا ہے پس اس سے غور کرنے والی طبیعت سمجھ سکتی ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں وحدت ہے ایسا ہی وہ نوع انسان میں