تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 288
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۸ سورة طه جولوگ خدا کے محب ہیں وہ موت سے نہیں مرتے کیونکہ ان کا پانی اور ان کی روٹی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۶) جو شخص مجرم ہونے کی حالت میں مرے گا اس کے لئے جہنم ہے کہ وہ اس میں نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔اب دیکھو کہ جہنمی کے واسطے زندگی بھی نہیں گو ابدی عذاب کے پورا کرنے کے لئے موت بھی نہیں۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۸۵) کسی چیز کی بجز خدا کے کوئی ہستی نہیں۔محض خدا ہے جس کا نام ہست ہے۔پھر اس کے زیر سایہ ہوکر اور اس کی محبت میں محو ہو کر واصلوں کی روحیں حقیقی زندگی پاتی ہیں۔اور اس کے وصال کے بغیر زندگی حاصل نہیں ہو سکتی۔اسی وجہ سے اللہ تعالی قرآن شریف میں کافروں کا نام مردے رکھتا ہے اور دوزخیوں کی نسبت فرماتا ہے إِنَّهُ مَنْ يَأْتِ رَبِّكَ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ ، لَا يَمُوتُ فِيهَا وَ لَا يَخيلی یعنی جو شخص مجرم ہونے کی حالت میں اپنے رب کو ملے گا۔اُس کے لئے جہنم ہے نہ اس میں مرے گا اور نہ زندہ رہے گا۔یعنی اس لئے نہیں مرے گا کہ دراصل وہ تعبد ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔لہذا اس کا وجود ضروری ہے اور اس کو زندہ بھی کا نہیں کہہ سکتے کیونکہ حقیقی زندگی وصالِ الہی سے حاصل ہوتی ہے اور حقیقی زندگی میں نجات ہے اور وہ بجر بعشق الہی اور وصال حضرت عزت کے حاصل نہیں ہو سکتی اگر غیر قوموں کو حقیقی زندگی کی فلاسفی معلوم ہوتی تو وہ کبھی دعوی نہ کرتے کہ تمام ارواح خود بخود قدیم سے اپنا وجود رکھتی ہیں اور حقیقی زندگی سے بہرہ ور ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ یہ علوم آسمانی ہیں اور آسمان سے ہی نازل ہوتے ہیں اور آسمانی لوگ ہی ان کی حقیقت کو جانتے ہیں اور دنیا اُن سے بے خبر ہے۔چشمه سیحی، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۶۶) جیسا کہ جسمی ترکیب میں انحلال ہو کر جسم پر موت آتی ہے ایسا ہی رُوحانی صفات میں تغیرات پیدا ہوکر رُوح پر موت آجاتی ہے مگر جو لوگ وجہ اللہ میں محو ہو کر مرتے ہیں وہ بباعث اس اتصال کے جو اُن کو حضرت عزت سے ہو جاتا ہے دوبارہ زندہ کئے جاتے ہیں اور اُن کی زندگی خدا کی زندگی کا ایک ظل ہوتا ہے اور پلید روحوں میں بھی عذاب دینے کے لئے ایک حس پیدا کی جاتی ہے مگر وہ نہ مردوں میں داخل ہوتے ہیں نہ زندوں میں جیسا کہ ایک شخص جب سخت درد میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ بدحواسی کی زندگی اس کے لئے موت کے برابر ہوتی ہے اور زمین و آسمان اُس کی نظر میں تاریک دکھائی دیتے ہیں انہیں کے بارہ میں خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے إِنه مَنْ يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَ لَا يَحْلى یعنی جو