تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 284
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۴ سورة طه وَلَا يَجُوزُ الْمَوْتُ في السَّمَاوَاتِ آسمان میں موت کا جواز ثابت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا لِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَفِيهَا نُعِيْدُ كُمْ وَلَا تَجِدُ ہے وَ فِيهَا نُعِيدُكُم اور قرآن کریم میں اور لیس علیہ السلام في الْقُرْآنِ ذِكْرَ نُزُولِ إدْرِيسَ وَمَوْتِهِ کے آسمان سے اترنے ، ان کے وفات پانے اور ان کے وَدَفَيهِ فِي الْأَرْضِ فَقَبَتَ بِالضُّرُورَةِ أَنَّ زمین میں دفن ہونے کا ذکر موجود نہیں پس بالضرورت ثابت ہوا کہ رفع سے مرادموت ہے۔( ترجمه از مرتب) الْمُرَاد مِن الرَّفْعِ الْمَوْتُ۔(حمامة البشری ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۲۰) وہ عقیدہ جس پر خدا تعالیٰ نے علی وجہ البصیرہ مجھ کو قائم کیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام مثل دیگر انسانوں کے انسانی عمر پا کر فوت ہو گئے ہیں اور آسمان پر مع جسم عنصری چڑھ جانا اور پھر کسی وقت مع جسم عنصری زمین پر نازل ہونا یہ سب اُن پر تہمتیں ہیں۔قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَل قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا (بنی اسرائیل : ۹۴) - پس اصل مسئلہ جو طے ہونے اور فیصلہ ہونے کے لائق ہے وہ یہی ہے کہ کیا یہ سچ ہے کہ برخلاف عادت اللہ در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ گئے تھے اور اگر یہ نصوص صریحہ ہینہ قرآن شریف سے ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام در حقیقت آسمان پر مع جسم عنصری اٹھائے گئے تھے تو پھر اُن کے نازل ہونے کے بارے میں کسی بحث کی ضرورت نہیں کیونکہ جو شخص مع جسم عصری آسمان پر جائے گا اُس کا واپس آنا بموجب نص قرآنی ضروری ہے پس اگر حضرت عیسی مع جسم آسمان پر چلے گئے ہیں تو واپس آنے میں کیا شک ہے وجہ یہ کہ اگر دوبارہ زمین پر آنے کے لئے کسی اور کام کی غرض سے ان کی کچھ ضرورت نہ ہو مگر پھر بھی مرنے کے لئے اُن کا آنا ضرور ہوگا کیونکہ آسمان پر کوئی قبروں کی جگہ نہیں۔اور نص صریح قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک انسان زمین پر ہی مرے گا اور زمین میں ہی دفن کیا جائے گا اور زمین سے ہی نکالا جائے گا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مِنْهَا خَلَقْنَكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُم تَارَةً أخرى - البته ي ممکن ہے کہ آسمان سے بیمار ہو کر آویں یا راہ میں بیمار ہو جائیں اور پھر زمین پر آکر مر جائیں۔اور یہ ہم نے اس لئے کہا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ آنے والا عیسی زعفرانی رنگ کی دو چادروں میں نازل ہوگا۔اور تمام معتبرین کے اتفاق سے تعبیر کی رو سے زرد رنگ چادر سے بیماری مراد ہوتی (برائین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۷۲، ۳۷۳) ہے۔