تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 247
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۷ سورة الكهف أولَبِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَيْتِ رَبِّهِمْ وَلِقَابِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَزْنان فَلَا نُقِيمُ لَهُمُ يَوْمَ الْقِیمَةِ وَزْنا میں گناہ کا ذکر نہیں ہے۔اس کا باعث صرف یہ ہے کہ ان لوگوں نے دنیا کی خواہشوں کو مقدم رکھا ہوا تھا۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ دنیا کا حظ پا چکے۔وہاں بھی گناہ کا ذکر نہیں بلکہ دنیا کی لذات جن کو خدا تعالیٰ نے جائز کیا ہے ان میں منہمک ہو جانے کا ذکر ہے۔اس قسم کے لوگوں کا مرتبہ عند اللہ کچھ نہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی عزت کا مقام دیا جائے۔شیریں زندگی اصل میں ایک شیطان ہے جو کہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔مومن تو خود مصیبت خریدتا ہے ورنہ اگر وہ مداہنہ برتے تو ہر طرح آرام سے رہ سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس طرح کرتے تو اس قدر جنگیں کیوں ہوتیں لیکن آپ نے دین کو مقدم رکھا اس لئے سب دشمن ہو گئے۔(البدر جلد ۳ نمبر ۲۹ مورخہ یکم اگست ۱۹۰۴ صفحه ۳) مومن آدمی کا سب ہم و غم خدا کے واسطے ہوتا ہے دنیا کے لئے نہیں ہوتا اور وہ دنیاوی کاموں کو کچھ خوشی سے نہیں کرتا بلکہ اداس سا رہتا ہے اور یہی نجات حیات کا طریق ہے اور وہ جو دنیا کے پھندوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے ہم و غم سب دنیا کے ہی لئے ہوتے ہیں۔ان کی نسبت تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے فلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ وَزْنا ہم قیامت کو ان کا ذرہ بھر بھی قدر نہیں کریں گے۔خلِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا احکام جلد ۱۱ نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ صفحه ۹) وہ آیات جن میں لکھا ہے کہ فوت شدہ لوگ پھر دنیا میں نہیں آتے ازا الجملہ یہ آیت ہے وَ حَرام علی قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الانبیاء : ٩٢ )۔۔۔۔پھر چھٹی آیت یہ ہے لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا۔(ازالہ اوبام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۱۹ حاشیه در حاشیه ) قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَ لَو جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا یعنی اگر خدا کی کلام کے لکھنے کے لئے سمندر کو سیاہی بنایا جائے تو لکھتے لکھتے سمند رختم ہو جائے اور کلام