تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 232
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۲ سورةالكهف دو التَّوْهِينِ وَقَدْ أَشَارَ اللهُ فِي كَثِيرٍ مِّن قیدیوں کی طرح زندگی بسر کریں گے اور تفرقہ اور الْمَقَامِ أَنَّ تِلْكَ الأَيَّامِ أَيَّامُ الْغُرْبَةِ پراگندگی کی ہوائیں اُن کے سر پر چلیں گی۔پس وہ لِلْإِسْلامِ، وَهُنَاكَ يَكُونُ الْمُسْلِمُونَ بکھر جائیں گے اور پراگندہ ہو جائیں گے اور كَالْمَحْصُورِينَ وَعَهُبُ عَلَيْهِمْ عَوَاصِفُ بَعْضَهُمْ يَوْمَيذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ سے مراد یہ ہے کہ التَّفْرِقَةِ فَيَكُونُونَ كَعِضِيْنَ فَأَمَّا قَوْله ایک فرقہ دوسرے فرقہ کو کھا جائے گا اور یا جوج و ماجوج بَعْضَهُمْ يَوْمَيذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ فَيُرِيدُ سربلندی پائیں گے اور تمام سطح زمین پر اُن کے نکلنے مِنْهُ أَنَّ فِرْقَةً تَأْكُلُ فِرْقَةٌ أُخرى، وَتَعْلُو کی خبریں سننے میں آئیں گی اور اُن دنوں میں اسلام يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَتَسْمَعُونَ أَخْبَارَ بوڑھی عورت کی طرح ہوگا اور اُس میں کسی طرح کی خُرُوجِهِمْ فِي الْأَرْضِينَ۔وَفِي تِلْكَ الأَيَّامِ لا قوت اور عزت نہیں رہے گی اور ذلت پر ذلت اُس کو يَكُونُ الْإِسْلَامُ إِلَّا كَعَجُوزَةٍ، وَلَا يَبْقَى لَه پہنچے گی اور قریب ہوگا کہ بغیر تجہیز وتکفین کے زمین میں مِنْ قُوَّةٍ وَلَا مِنْ عِزَّةٍ، وَتُصِيبُهُ ذِلَّةٌ عَلَى ذِلَّةٍ گاڑ دیا جائے اور ایسی مصیبتیں اس کے سر پر پڑیں گی وَكَادَ أَنْ يُقْبَرَ مِنْ غَيْرِ التَّجْهِيزِ وَالتَّكْفِينِ کہ پہلے زمانہ میں کسی کان نے اس جیسا نہ سنا ہوگا اور وَتُصَبُّ عَلَيْهِ مَصَائِبُ مَا سَمِعَتْ أُذُنٌ دین میں سے گروہ در گروہ جاہل لوگ لعنت کرتے مِثْلَهَا مِن قَبْلُ وَيَخْرُجُ مِنَ الدِّينِ أَفَوَاجُ ہوئے اور تکذیب کرتے ہوئے نکل جائیں گے اور منَ الْجَاهِلِينَ، لَاعِنِينَ وَمُحَقِّرِينَ وَمُكَذِّبِينَ تمام امور زیر و زبر کیے جائیں گے اور شریعت اور وتقلب الأمورُ كُلُهَا، وَتَنْزِلُ الْمَصَائِبُ عَلَى شریعت والوں پر رنج اور مصیبتیں اُتریں گی اور اُس الشَّرِيعَةِ وَأَهْلِهَا، وَيُرَدُّ فَتَرُهَا كَعُرْجُونٍ کا چاند دیکھنے والوں کی نظر میں پرانی ٹہنی کی طرح قَدِيمٍ فِي أَعْيُنِ النَّاظِرِينَ، وَهَذِهِ ذِلَّةٌ ما نظر آئے گا اور یہ وہ ذلت ہے کہ اس سے پہلے ملت کو أَصَابَتِ الْمِلَّةَ مِن قَبْلُ وَلَن تُصِيبَ إلى نہیں پہنچی اور قیامت تک نہیں پہنچے گی۔جب اس حد يَوْمِ الدِّينِ۔فَعِنْدَ ذَالِكَ تَنْزِلُ التَّرَةُ مِن تک معاملہ پہنچ جاوے گا تب آسمان سے نصرت اور السَّمَاءِ وَمَعَالِمُ الْعِزَّةِ مِنْ حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاء خدا تعالی کی طرف سے بغیر تلوار اور بغیر نیزے اور ، مِنْ غَيْرِ سَيْفٍ وَسِنَانٍ وَمُحَارِبِيْنَ وَإِلَيْهِ لڑنے والوں کے عزت کے نشان اُتریں گے۔اور إشَارَةٌ في قَوْلِهِ تَعَالَى وَنُفِخَ فِي الصُّورِ اس کی طرف خدا تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے: