تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 228

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۸ سورةالكهف اذَانْ طَوِيْلَةٌ لِأَنَّهُمْ قَدِ اتَّفَقُوا عَلَى أَنَّ يَأْجُوجَ ہیں اس لیے کہ قوم نے اس پر اتفاق کیا ہوا ہے وَمَأْجُوجَ قَوْمٌ تَحْصُورُونَ فِي الْإِقْلِيمِ الرَّابِحِ کہ وہ چوتھی اقلیم میں محصور ہیں اور ہر ایک قوم وَهُمْ أَزْيَدُ نَسُلًا وَعَدَدًا مِنْ كُلِّ قَوْمٍ، وَهُدًا سے وہ تعداد اورنسل میں زیادہ ہیں اور یہ بَاطِلُ بِالْبَدَاهَةِ۔لأنا لا نرى في الإقليم الرابع بالبداہت باطل ہے کیونکہ ہم چوتھی اقلیم میں ان لِأَنَّا أَثَرًا مِّنْهُمْ وَلَا مِنْ بِلَادِهِمْ وَمُدُنهم كا اور ان کے شہروں اور لشکروں کا کچھ نام ونشان وَعَسَاكِرِهِمْ مَعَ أَنَّ عِمَارَاتِ الْأَرْضِ قَدْ ظَهَرَتْ نہیں پاتے حالانکہ زمین کی گل آبادیاں ظاہر ہو كُلُهَا۔فَالرَّوَايَاتُ في هَذَا الْبَابِ بَاطِلَةٌ كُهَا۔چکی ہیں۔پس اس باب میں سب روایتیں باطل (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۱۰ حاشیه در حاشیہ) ہیں۔(ترجمہ از مرتب) فَالْحَاصِلُ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ يَعْنِي وَجَاعِلُ خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت یعنی وَ جَاعِلُ الَّذِينَ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ دَلِيلٌ صَرِيحٌ وَبُرْهَانٌ وَاضِحُ عَلَى أَنَّ الْقُوَّةَ صریح دلیل ہے کہ روئے زمین پر غلبہ اور قوت وَالْغَلَبَةَ وَالشَّوْكَةَ وَالتَّسَلُّط الْكَامِلَ الْفَائِقَ شوکت اور کامل اور اعلیٰ درجہ کا تسلط قوم نصاریٰ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ لَا يُجَاوِزُ هَذَيْنِ الْقَوْمَيْنِ اور مسلمانوں سے باہر نہ جاوے گا اور حکومت النَّصَارَى وَالْمُسْلِمِينَ، وَتُدَاوِلُ الْحُكُومَةُ تامه قیامت تک انہیں کے ہاتھوں میں پھرے التَّامَّةُ بَيْنَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَكُونُ گی اور کسی اور کو اس سے حصہ نہ ملے گا بلکہ ان کے لِغَيْرِهِمْ حَظًّا مِنهَا، بَلْ تُضَرَبُ عَلى أَعْدَانِهِمُ دشمنوں پر ذلت اور مسکنت مسلط کی جاوے گی اللله وَالْمَسْكَتَةُ، وَيَذُوبُونَ يَوْمًا فَيَوْمًا حَتَّی اور وہ دن بدن پگھلتے جاویں گے یہاں تک کہ يَكُونُوا كَالْفَانِينَ فَإِذَا كَانَ الْأَمْرُ كَذلِك فنا شده قوم کی مانند ہو جاویں گے۔پس جب فَوَجَبْ أَن تَكُونَ الْحُكُومَةُ وَالْقُوَّةُ مُتَدَاوِلَةٌ بَيْنَ آیت کا یہ مطلب ہے تو واجب ہے کہ حکومت اور هذَيْنِ الْقَوْمَيْنِ إِلَى الدَّوَامِ وَمَخصُوصَةٌ بها قوت انہیں دو قوموں میں پھرے اور انہیں سے فَلَزِمَ بِنَاءً عَلَى هَذَا أَنْ يَكُونَ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ مختص رہے اور اس بنا پر ضروری ہے کہ یاجوج إِمَّا مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَّا مِنَ الْمُتَنفِرِينَ ماجوج يا تو مسلمانوں سے ہوں یا نصاری سے آل عمران : ۵۶