تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 214

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۴ سورةالكهف ہے۔افسوس بعض نادانوں نے عبودیت کے اُس تعلق کو جور بوبیت کے ساتھ ہے جس سے ظلی طور پر صفاتِ الہیہ بندہ میں پیدا ہوتے ہیں نہ سمجھ کر میری اس وحی من اللہ پر اعتراض کیا ہے کہ إِنَّمَا أَمْرُكَ إِذَا أَرَدْتَ شَيْئًا أَن تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونَ۔یعنی تیری یہ بات ہے کہ جب تو ایک بات کو کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا یہ میری طرف سے نہیں ہے اور اس کی تصدیق اکا بر صوفیہ اسلام کر چکے ہیں جیسا کہ سید عبد القادر جیلانی نے بھی فتوح الغیب میں یہی لکھا ہے اور عجیب تریہ کہ سید عبد القادر جیلانی نے بھی یہی آیت پیش کی ہے۔افسوس لوگوں نے صرف رسمی ایمان پر کفایت کر لی ہے اور پوری معرفت کی طلب ان کے نزدیک کفر ہے اور خیال کرتے ہیں کہ یہی ہمارے لئے کافی ہے حالانکہ وہ کچھ بھی چیز نہیں اور اس سے منکر ہیں کہ کسی سے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کا مکالمہ مخاطبہ یقینی اور واقعی طور پر ہوسکتا ہے۔ہاں اس قدر اُن کا خیال ہے کہ دلوں میں القا تو ہوتا ہے مگر نہیں معلوم کہ وہ القا شیطانی ہے یا رحمانی ہے اور نہیں سمجھتے کہ ایسے القا سے ایمانی حالت کو فائدہ کیا ہوا اور کون سی ترقی ہوئی بلکہ ایسا القاتو ایک سخت ابتلا ہے جس میں معصیت کا اندیشہ یا ایمان جانے کا خطرہ ہے کیونکہ اگر ایسی مشتبہ وحی میں جو نہیں معلوم شیطان سے ہے یا رحمان سے ہے کسی کو تاکیدی حکم ہو کہ یہ کام کر تو اگر اس نے وہ کام نہ کیا اس خیال سے کہ شاید یہ شیطان نے حکم دیا ہے اور دراصل وہ خدا کا حکم تھا تو یہ انحراف موجب معصیت ہوا۔اور اگر اُس حکم کو بجالایا اور اصل میں شیطان کی طرف سے وہ حکم تھا تو اس سے ایمان گیا۔پس ایسے الہام پانے والوں سے وہ لوگ اچھے رہے جو ایسے خطر ناک الہامات سے جن میں شیطان بھی حصہ دار ہو سکتا ہے ، محروم ہیں۔ایسے عقیدہ کی حالت میں عقل بھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی ممکن ہے کہ کوئی الہام الہی ایسا ہو جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کی ماں کا تھا جس کی تعمیل میں اس کے بچہ کی جان خطرہ میں پڑتی تھی یا جیسا کہ خضر علیہ السلام کا الہام تھا جس نے بظاہر حال ایک نفس زکیہ کا ناحق خون کیا اور چونکہ ایسے امور بظاہر شریعت کے برخلاف ہیں اس لئے شیطانی دل کے احتمال سے کون ان پر عمل کرے گا اور بوجہ عدم تعمیل معصیت میں گرے گا۔اور ممکن ہے کہ شیطان لعین کوئی ایسا حکم دے کہ بظاہر شریعت کے مخالف معلوم نہ ہو اور دراصل بہت فتنہ اور تباہی کا موجب ہو یا پوشیدہ طور پر ایسے امور ہوں جو موجب سلب ایمان ہوں۔پیس ایسے مکالمہ مخاطبہ سے فائدہ کیا ہوا۔پھر آیات متذکرہ بالا کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذوالقرنین یعنی مسیح موعود اس قوم کو جو یا جوج ماجوج سے ڈرتی ہے، کہے گا کہ مجھے تانبا لا دو کہ میں اس کو پکھلا کر اُس دیوار پر انڈیل دوں گا۔پھر بعد اس کے