تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 164

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۴ سورة بنی اسراءیل پیدا کر دیتی ہے اسی واسطے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ روح کیا چیز ہے تو خدا نے فرمایا کہ تو ان کو جواب دے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اس بارے میں آیت قرآنی یہ ہے کہ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا یعنی یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ رُوح کیا چیز ہے اور کیوں کر پیدا ہوتی ہے۔اُن کو جواب دے کہ رُوح میرے رب کے امر سے پیدا ہوتی ہے یعنی وہ ایک راز قدرت ہے اور تم لوگ رُوح کے بارے میں کچھ علم نہیں رکھتے مگر تھوڑا سا یعنی صرف اس قدر کہ تم رُوح کو پیدا ہوتے دیکھ سکتے ہو اس سے زیادہ نہیں جیسا کہ ہم بچشم خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری آنکھ کے سامنے کسی مادہ میں سے کیڑے مکوڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔اور انسانی روح کے پیدا ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کا قانون قدرت یہ ہے کہ دو نطفوں کے ملنے کے بعد جب آہستہ آہستہ قالب تیار ہو جاتا ہے تو جیسے چندا دویہ کے ملنے سے اُس مجموعہ میں ایک خاص مزاج پیدا ہو جاتی ہے کہ جو ان دواؤں میں فرد فرد کے طور پر پیدا نہیں ہوتی اسی طرح اُس قالب میں جو خون اور دو نطفوں کا مجموعہ ہے ایک خاص جو ہر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ایک فاسفرس کے رنگ میں ہوتا ہے اور جب تجلی الہی کی ہوا کشن کے امر کے ساتھ اس پر چلتی ہے تو یکدفعہ وہ افروختہ ہوکر اپنی تا ثیر اس قالب کے تمام حصوں میں پھیلا دیتا ہے تب وہ جنین زندہ ہو جاتا ہے پس یہی افروختہ چیز جو جنین کے اندر تجلی ربی سے پیدا ہو جاتی ہے اس کا نام رُوح ہے اور وہی کلمتہ اللہ ہے اور اس کو آمر رتی سے اس لئے کہا جاتا ہے کہ جیسے ایک حاملہ عورت کی طبیعت مد بر و بحکم قادر مطلق تمام اعضاء کو پیدا کرتی ہے اور عنکبوت کے جالے کی طرح قالب کو بناتی ہے اس روح میں اس طبیعت مد ترہ کو کچھ دخل نہیں بلکہ رُوح محض خاص تجلی الہی سے پیدا ہوتی ہے اور گوروح کا فاسفرس اُس مادہ سے ہی پیدا ہوتا ہے مگر وہ روحانی آگ جس کا نام رُوح ہے وہ بجر مس نسیم آسمانی کے پیدا نہیں ہو سکتی۔یہ سچا علم ہے جو قرآن شریف نے ہمیں بتلایا ہے تمام فلاسفروں کی عقلیں اس علم تک پہنچنے سے بیکار ہیں اور وید بھی بید بے شمر کی طرح اس علم سے محروم رہا وہ قرآن شریف ہی ہے جو اس علم کو زمین پر لایا سو اس طور سے ہم کہتے ہیں کہ روح نیست سے ہست ہوتی ہے یا عدم سے وجود کا پیرا یہ پہنتی ہے۔یہ نہیں ہم کہتے کہ عدم محض سے رُوح کی پیدائش ہوتی ہے کیونکہ تمام کارخانہ پیدائش سلسلہ حکمت اور علمل معلولات سے وابستہ ہے۔اور یہ کہنا کہ اگر روح مخلوق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ فنا بھی ہو جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رُوح بیشک فنا پذیر ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ جو چیز اپنی صفات کو چھوڑتی ہے اس حالت میں اس کو فانی کہا جاتا ہے