تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 162
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۲ کیڑے پڑ جاتے ہیں ان چیزوں میں کہاں سے اور کس راہ سے روح آ جاتی ہے۔سورة بنی اسراءیل سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۱۲، ۱۱۳) روح ہرگز جسم نہیں ہے جسم قسمت کو قبول کرتا ہے اور روح قابل انقسام نہیں اور اگر یہ کہو کہ وہ جز لا یتجزی ہے یعنی پر مانو ( پر کرتی ) ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ کئی روحوں کو باہم جوڑ کر ایک بڑا جسم طیار ہو جائے جس کو دیکھ سکیں اور ٹول سکیں کیونکہ جز لا تجزی جس کو آریہ لوگ پر کرتی یا پر مانو کہتے ہیں یہی خاصیت رکھتی ہے۔سرمه چشم آرید ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۲۴ حاشیه ) بجز انسان کے اور کسی حیوان اور کیڑے مکوڑے کی روح کو بقاء نہیں ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۲۰) روح ایک لطیف نور ہے جو اس جسم کے اندر ہی سے پیدا ہو جاتا ہے جو رحم میں پرورش پاتا ہے۔پیدا ہونے سے مراد یہ ہے کہ اول مخفی اور غیر محسوس ہوتا ہے پھر نمایاں ہو جاتا ہے اور ابتداء اس کا خمیر نطفہ میں موجود ہوتا ہے۔بے شک وہ آسمانی خدا کے ارادہ سے اور اس کے اذن اور اس کی مشیت سے ایک مجہول الکنہ علاقہ کے ساتھ نطفہ سے تعلق رکھتا ہے اور نطفہ کا وہ ایک روشن اور نورانی جو ہر ہے۔نہیں کہہ سکتے کہ وہ نطفہ کی ایسی جز ہے جیسا کہ جسم جسم کی جز ہوتا ہے۔مگر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ باہر سے آتا ہے یا زمین پر گر کر نطفہ کے مادہ سے آمیزش پاتا ہے بلکہ وہ ایسا نطفہ میں مخفی ہوتا ہے جیسا کہ آگ پتھر کے اندر ہوتی ہے۔خدا کی کتاب کا یہ منشا نہیں ہے کہ روح الگ طور پر آسمان سے نازل ہوتی ہے یا فضا سے زمین پر گرتی ہے اور پھر کسی اتفاق سے نطفہ کے ساتھ مل کر رحم کے اندر چلی جاتی ہے۔بلکہ یہ خیال کسی طرح صحیح نہیں ٹھہر سکتا۔اگر ہم ایسا خیال کریں تو قانون قدرت ہمیں باطل پر ٹھہراتا ہے۔ہم روز مشاہدہ کرتے ہیں کہ گندے اور باسی کھانوں میں اور گندے زخموں میں ہزار ہا کیڑے پڑ جاتے ہیں۔میلے کپڑوں میں صدہا جوئیں پڑ جاتی ہیں۔انسان کے پیٹ کے اندر بھی کدو دانے وغیرہ پیدا ہو جاتے ہیں۔اب کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ باہر سے آتے ہیں یا آسمان سے اترتے کسی کو دکھائی دیتے ہیں۔سو صیح بات یہ ہے کہ روح جسم میں سے ہی نکلتی ہے اور اسی دلیل سے اس کا مخلوق ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔اب اس وقت ہمارا مطلب اس بیان سے یہ ہے کہ جس قادر مطلق نے روح کو قدرت کاملہ کے ساتھ جسم میں سے ہی نکالا ہے اس کا یہی ارادہ معلوم ہوتا ہے کہ روح کی دوسری پیدائش کو بھی جسم کے ذریعہ سے ہی ظہور میں لاوے۔روح کی حرکتیں ہمارے جسم کی حرکتوں پر موقوف ہیں۔جس طرف ہم جسم کو کھینچتے ہیں روح