تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 127
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۷ سورة بنی اسراءیل فرمایا وَ إِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيِّمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا اور پھر ساتھ ہی قرآن مجید میں یہ بھی لکھا ہے وَمَا كُنَّا مُعَذْ بِيْنَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا ( بنی اسرائیل :١٦) - اگر ان دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھا جاوے تو صاف ایک رسول کی نسبت پیشگوئی معلوم ہوتی ہے اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کا آنا اس زمانہ میں ضروری ہے۔یہ کہنا کہ فلاں فلاں رسول کے زمانہ میں یہ یہ عذاب آئے۔ان لوگوں کے خیال کے بموجب تو جب کل دنیا میں عذاب شروع ہو گیا اس وقت کوئی رسول نہ آیا تو اس بات کا کیا اعتبار رہا کہ پہلے زمانہ میں جو عذاب آئے تھے ان رسولوں کے انکار سے ہی آئے تھے۔کیسی صاف بات تھی کہ آخری زمانہ میں سخت عذاب آئیں گے اور ساتھ ہی لکھا تھا کہ جب تک رسول مبعوث نہ کرلیں عذاب نہیں بھیجتے ہیں اس سے بڑھ کر صاف پیشگوئی اور کیا ہو سکتی ہے۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۶ مورخه ۱۰ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۸) طاعون کا عذاب دو طرح پر ہوگا کوئی بستی اس سے خالی نہیں رہے گی۔بعض تو ایسی ہوں گی کہ جن کو ہم بالکل ہلاک کر دیں گے یعنی وہ اُجڑ کر بالکل غیر آباد ہو جائیں گی اور ویرانہ اور تھہ (اجڑے ہوئے کھنڈرات) ہو جائیں گی۔ان کا کوئی نشان بھی نہ رہے گا لوگ تلاش کرتے پھریں گے کہ اس جگہ فلاں بستی آباد تھی لیکن پھر بھی پتہ نہ ملے گا گویا طاعون وہاں جاروب دے کر اس کو دنیا سے صاف کر دے گی اور کوئی آثار اس کے نہ چھوڑے گی۔بعض قریے ایسے ہوں گے کہ جن کو کم و بیش عذاب کر کے چھوڑ دیا جائے گا اور صفحہ ، دنیا سے ان کا نام نہ منایا جائے گا صرف سرزنش کے طور پر کچھ عذاب ان میں نازل کیا جائے گا اور تازیانہ کر کے عذاب ہٹا لیا جائے گا۔دوسرے بہت سے شہر فنا ہوں گے مگر وہ فنانہ ہوں گے۔اسی طرح اللہ تعالی نے قادیان کو اسی قسم میں شامل کیا ہے اور اس الہام اِنَّهُ آوَى الْقَرْيَةَ سے مراد یہی ہے کہ اور بستیوں کی طرح ہمارے گاؤں کو طاعون جارف بالکل تباہ نہ کرے گی کہ لوگ تلاش کرتے پھریں کہ کہاں قادیان واقع تھی۔اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ ان بستیوں کی طرح خدا اس کو تباہ نہ کرے گا بلکہ یہ بچی رہے گی الا بطور تازیانہ کچھ سزا دے کر اس کو بچا لیا جائے گا۔البدر جلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ء صفحه ۳) یوں تو قیامت سے پہلے ہر ایک بستی کو ہم نے ہی ہلاک کرنا ہے یا عذاب شدید نازل کرنا ہے۔یہی کتاب میں مندرج ہو چکا ہے۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۴۳۶) وَمَا مَنَعَنَا أَنْ تُرسِلَ بِالْايْتِ إِلَّا أَنْ كَذَبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ