تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 427
۴۲۶ سورة الرعد تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اس لئے فرمایا ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَينُ الْقُلُوبُ - اطمینان ، سکینت قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔الحکم جلد ۷ نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۹) قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ایسی شے ہے جو قلوب کو اطمینان عطا کرتا ہے جیسا کہ۔فرمایا: أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَينُ الْقُلُوبُ۔پس جہاں تک ممکن ہو کر الہی کرتار ہے اسی سے اطمینان حاصل ہوگا۔ہاں اس کے واسطے صبر اور محنت درکار ہے۔اگر گھبرا جاتا اور تھک جاتا ہے تو پھر یہ اطمینان نصیب نہیں ہوسکتا۔الحکام جلد ۹ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۵ صفحه ۹) اَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ اس کے عام معنی تو یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قلوب اطمینان پاتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اور فلسفہ یہ ہے کہ جب انسان بچے اخلاص اور پوری وفاداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور ہر وقت اپنے آپ کو اس کے سامنے یقین کرتا ہے اس سے اس کے دل پر ایک خوف عظمت الہی کا پیدا ہوتا ہے وہ خوف اس کو مکروہات اور منہیات سے بچاتا ہے اور انسان تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ملائکہ اس پر نازل ہوتے ہیں اور وہ اس کو بشارتیں دیتے ہیں اور الہام کا دروازہ اس پر کھولا جاتا ہے اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کو گویا دیکھ لیتا ہے اور اس کی وراء الور اطاقتوں کو مشاہدہ کرتا ہے۔پھر اس کے دل پر کوئی ہم و غم نہیں آسکتا اور طبیعت ہمیشہ ایک نشاط اور خوشی میں رہتی ہے۔احکام جلد ۹ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۵ صفحه ۸) وَ لَو اَن قُرْآنًا سُيّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا أَفَلَمْ يَايُنَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ لَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا تُصِيبُهُم بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتَّى يَأْتِيَ وَعْدُ اللهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَة اگر چہ قرآنی معجزات ایسے دیکھتے جن سے پہاڑ جنبش میں آجاتے۔( براہینِ احمد یہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۹۲ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الخ اور ہمیشہ ان کا فروں کو کوئی نہ کوئی کوفت پہنچتی رہے گی یہاں تک کہ وہ وقت