تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 402

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۱ سورة يوسف ہے جب اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان ہو۔یقیناً سمجھو کہ ہر ایک پاکبازی اور نیکی کی اصلی جڑ خدا پر ایمان لانا ہے۔جس قدر انسان کا ایمان باللہ کمزور ہوتا ہے اسی قدر اعمال صالحہ میں کمزوری اور سنتی پائی جاتی ہے لیکن جب ایمان قوی ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفات کاملہ کے ساتھ یقین کر لیا جائے اسی قدر عجیب رنگ کی تبدیلی انسان کے اعمال میں پیدا ہو جاتی ہے۔خدا پر ایمان رکھنے والا گناہ پر قادر نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ایمان اس کی نفسانی قوتوں اور گناہ کے اعضا کو کاٹ دیتا ہے۔دیکھو اگر کسی کی آنکھیں نکال دی جاویں تو وہ آنکھوں سے بدنظری کیوں کر کر سکتا ہے اور آنکھوں کا گناہ کیسے کرے گا اور اگر ایسا ہی ہاتھ کاٹ دیئے جاویں یا شہوانی قومی کاٹ دیئے جاویں۔پھر وہ گناہ جو ان اعضا سے متعلق ہیں کیسے کر سکتا ہے؟ ٹھیک اسی طرح پر جب ایک انسان نفس مطمعنہ کی حالت میں ہوتا ہے تو نفس مطمئنہ اسے اندھا کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں میں گناہ کی قوت نہیں رہتی۔وہ دیکھتا ہے پھر نہیں دیکھتا کیونکہ آنکھوں کے گناہ کی نظر سلب ہو جاتی ہے وہ کان رکھتا ہے مگر بہرہ ہوتا ہے اور وہ باتیں جو گناہ کی ہیں نہیں سن سکتا۔اسی طرح پر اس کی تمام نفسانی اور شہوانی قوتیں اور اندرونی اعضا کاٹ دیئے جاتے ہیں اس کی ان ساری طاقتوں پر جن سے گناہ صادر ہو سکتا تھا ایک موت واقع ہو جاتی ہے اور وہ بالکل ایک میت کی طرح ہوتا ہے۔اور خدا تعالیٰ ہی کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔وہ اس کے سوا ایک قدم نہیں اٹھا سکتا۔یہ وہ حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کامل اطمینان اسے دیا جاتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جو انسان کا اصل مقصود ہونا چاہیے اور ہماری جماعت کو اسی کی ضرورت ہے اور اطمینان کامل کے حاصل کرنے کے واسطے ایمان کامل کی ضرورت ہے پس ہماری جماعت کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان حاصل کریں۔الحاکم جلد ۸ نمبر امورخه ۱۰ر جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۳) اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ زمانہ جو شباب اور جوانی کا زمانہ ہے ایک ایسا زمانہ ہے کہ نفس امارہ نے اس کو ردی کیا ہوا ہے لیکن اگر کوئی کار آمد ایام ہیں تو یہی ہیں۔حضرت یوسف علیہ السلام کی زبانی قرآن شریف میں درج ہے: وَمَا أُبَرِى نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي یعنی میں اپنے نفس کو بری نہیں ٹھہر اسکتا کیونکہ نفس امارہ بدی کی طرف تحریک کرتا ہے۔اس کی اس قسم کی تحریکوں سے وہی پاک ہو سکتا ہے جس پر میرا رب رحم کرے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ کی بدیوں اور جذبات سے بچنے کے واسطے نری کوشش ہی شرط نہیں بلکہ دعاؤں کی بہت بڑی ضرورت ہے۔نراز ہد ظاہری ہی ( جو انسان اپنی