تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 6

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶ سورة المائدة وَ اتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي۔۔۔۔آج میں نے دین تمہارا تمہارے لئے کامل کیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کیا۔جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۹۸) اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں اپنی کمال تعلیم کا آپ دعوئی فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتى الخ کہ آج میں نے تمہارے لئے دین تمہارا کامل کیا اور اپنی نعمت یعنی تعلیم قرآنی کو تم پر پورا کیا اور ایک دوسرے محل میں اس اکمال کی تشریح کے لئے کہ اکمال کس کو کہتے ہیں فرماتا ہے : أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةٌ طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُونِ أَكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بإِذْنِ رَبِّهَا وَ يَضْرِبُ اللهُ الأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ، وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةِ اجْتُثَتُ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ يُثَيْتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ ) (ابراهیم : ۲۵ تا ۲۸ ) ( س ۱۳ - (۱۶) کیا تو نے نہیں دیکھا کیوں کر بیان کی اللہ نے مثال یعنی مثال دین کامل کی کہ بات پاکیزہ درخت پاکیزہ کی مانند ہے جس کی جڑ ثابت ہو اور شاخیں اس کی آسمان میں ہوں اور وہ ہر ایک وقت اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا ہو اور یہ مثالیں اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تالوگ ان کو یاد کر لیں اور نصیحت پکڑ لیں اور نا پاک کلمہ کی مثال اس ناپاک درخت کی ہے جو زمین پر سے اُکھڑا ہوا ہے اور اس کو قرار وثبات نہیں۔سو اللہ تعالیٰ مومنوں کو قول ثابت کے ساتھ یعنی جو قول ثابت شدہ اور مدلل ہے اس دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدم کرتا ہے اور جو لوگ ظلم اختیار کرتے ہیں ان کو گمراہ کرتا ہے یعنی ظالم خدا تعالیٰ سے ہدایت کی مدد نہیں پاتا جب تک ہدایت کا طالب نہ ہو۔۔۔۔کسی آیت کے وہ معنے کرنے چاہئے کہ الہامی کتاب آپ کرے اور الہامی کتاب کی شرح دوسری شرحوں پر مقدم ہے۔اب اللہ تعالیٰ ان آیات میں کلام پاک اور مقدس کا کمال تین باتوں پر موقوف قرار دیتا ہے ؛ اول یہ کہ اصلها ثابت یعنی اصول ایمانیہ اس کے ثابت اور محقق ہوں اور فی حد ذاتہ یقین کامل کے درجہ پر پہنچے ہوئے ہوں اور فطرت انسانی اس کو قبول کرے کیونکہ ارض کے لفظ سے اس جگہ فطرت انسانی مراد ہے جیسا کہ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ کا لفظ صاف بیان کر رہا ہے۔۔۔۔۔خلاصہ یہ کہ اصول ایمانیہا ایسے چاہئیں کہ ثابت شدہ اور انسانی فطرت کے موافق ہوں۔پھر دوسری نشانی کمال کی یہ فرماتا ہے کہ فَرْعُهَا فِي السَّمَاء یعنی اس کی شاخیں آسمان پر ہوں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں یعنی صحیفہ قدرت کو غور کی نگاہ سے مطالعہ کریں تو اس کی