تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 328
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۸ سورة التوبة ہے ان کو ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا اور جس طرح وہ اپنی اس دولت پر یقین رکھتے ہیں جو ان کے صندوقوں میں بند ہو یا اپنے ان مکانات پر جو ان کے قبضہ میں ہو ہر گز ان کو ایسا یقین خدا تعالیٰ پر نہیں ہوتا۔وہ سم الفار کھانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ یقیناً جانتے ہیں کہ وہ ایک زہر مہلک ہے لیکن گناہوں کی زہر سے نہیں ڈرتے۔شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد صفحه ۳۴۷) جاننا چاہیے کہ انبیاء کی ضرورتوں میں سے ایک یہ بھی ضرورت ہے کہ انسان طبعاً کامل نمونہ کا محتاج ہے اور کامل نمونہ شوق کو زیادہ کرتا ہے اور ہمت کو بڑھاتا ہے اور جو نمونہ کا پیرو نہیں وہ ست ہو جاتا ہے اور بہک جاتا ہے اس کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے : كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ۔۔۔تم ان لوگوں کی صحبت اختیار کر وجور است باز ہیں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۱ ۴۲۲،۴) اگر خدا سے ملنا چاہتے ہو تو دعا بھی کرو اور کوشش بھی کرو اور صادقوں کی صحبت میں بھی رہو کیونکہ اس راہ میں صحبت بھی شرط ہے۔لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۶۰،۱۵۹) خدا کو خدا کی جگہ، رسول کو رسول کی جگہ سمجھو اور خدا کے کلام کو دستور العمل ٹھہرا لو۔اس سے چونکہ زیادہ قرآن شریف میں اور کچھ نہیں کہ كُونُوا مَعَ الصّدِقِينَ پس صادقوں اور فانی فی اللہ کی صحبت تو ضروری ہے اور یہ کہیں نہ کہا گیا کہ تم اسے ہی سب کچھ سمجھو۔اور یا قرآن شریف میں یہ حکم ہے: اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : ۳۲) اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ مجھے خدا سمجھ لو، بلکہ یہ فرمایا کہ اگر خدا کے محبوب بننا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔اتباع کا حکم تو دیا ہے، مگر تصور شیخ کا حکم قرآن میں پایا نہیں جاتا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۹ مورخه ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۱ صفحه ۲) مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَفُوا عَنْ رَسُولِ اللهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَا وَلَا نَصَبٌ وَ لَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا يَطُونَ مَوطِئًا يَغِيظُ الْكَفَارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُةٍ نيلا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلَ صَالِحُ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ۔اللہ تعالی کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔ود رپورٹ جلسہ سالانہ ، ۱۸۹۷ ء صفحہ ۱۶۱)