تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 287

۲۸۷ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانفال ہزار اعتراض وارد ہو سکتا ہے۔نہیں ایسا ہر گز نہیں۔یہ اعتراضات تو کوتاہ اندیشوں اور نادانوں کی نظر میں اعتراض ہیں مگر میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے جہاں ان اعتراضات کو شمار کیا وہاں یہ بھی غور کیا ہے کہ ان اعتراضات کی تہہ میں دراصل بہت ہی نادر صداقتیں موجود ہیں جو عدم بصیرت کی وجہ سے ان کو دکھائی نہیں دیں اور حقیقت میں یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جہاں نا بینا معترض آکر انکا ہے وہیں حقائق و معارف کا مخفی خزانہ رکھا ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے کہ میں ان خزائن مدفونہ کو دنیا کو دکھاؤں اور نا پاک اعتراضات کا کیچڑ جوان درخشاں جواہرات پر تھو پا گیا ہے اسے پاک صاف کروں۔خدا تعالیٰ کی غیرت اس وقت بڑی جوش میں ہے کہ قرآن شریف کی ساحت عزت کو ہر ایک خبیث دشمن کے داغ اعتراض سے منزہ و مقدس کرے۔الغرض ایسی صورت میں کہ مخالفین قلم سے ہم پر وار کرنا چاہتے ہیں اور کرتے ہیں کس قدر بیوقوفی ہوگی کہ ہم ان سے لثّهم لٹھا ہونے کو تیار ہو جائیں۔میں تمہیں کھول کر بتلاتا ہوں کہ ایسی صورت میں اگر کوئی اسلام کا نام لے کر جنگ وجدال کا طریق جواب میں اختیار کرے تو وہ اسلام کا بدنام کرنے والا ہوگا اور اسلام کا کبھی ایسا منشاء نہ تھا کہ بے مطلب اور بلا ضرورت تلوار اُٹھائی جائے۔اب لڑائیوں کی اغراض جیسا کہ میں نے کہا ہے فن کی شکل میں آکر دینی نہیں رہیں بلکہ دنیوی اغراض ان کا موضوع ہو گیا ہے۔پس کس قدر ظلم ہوگا کہ اعتراض کرنے والوں کو جواب دینے کی بجائے تلوار دکھائی جائے۔اب زمانہ کے ساتھ حرب کا پہلو بدل گیا ہے۔اس لیے ضرورت ہے کہ سب سے پہلے اپنے دل اور دماغ سے کام لیں اور نفوس کا تزکیہ کریں راست بازی اور تقویٰ سے خدا تعالیٰ سے امداد اور فتح چاہیں یہ خدا تعالیٰ کا ایک اٹل قانون اور مستحکم اصول ہے کہ اگر مسلمان صرف قیل و قال اور باتوں سے مقابلہ میں کامیابی اور فتح پانا چاہیں تو یہ ممکن نہیں۔اللہ تعالیٰ لاف گزاف اور لفظوں کو نہیں چاہتا۔وہ تو حقیقی تقویٰ کو چاہتا اور سچی طہارت کو پسند کرتا ہے۔جیسا کہ فرمایا : اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْاوَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ۔ا رپورٹ جلسه سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۶۵ تا ۶۹) وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ اِنَّه هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ دو جب وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھک جاؤ۔اسلام اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۳۴۹)