تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 278

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۸ اَولِيَاءَ إِنْ أَوْلِيَاؤُنَ إِلَّا الْمُتَتَّقُونَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ® (۳۵) إن أوْلِيَاؤُهُ إِلا الْمُتَّقُونَ اللہ کے ولی وہ ہیں جو متقی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے دوست۔سورة الانفال رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۳۵) تقویٰ سے زینت اعمال پیدا ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب ملتا ہے اور اسی کے ذریعہ وہ اللہ تعالیٰ کا ولی بن جاتا ہے چنانچہ فرمایا ہے: اِنْ اَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ کامل طور پر جب تقویٰ کا کوئی مرحلہ باقی نہ رہے تو پھر یہ اولیاء اللہ میں داخل ہو جاتا ہے اور تقویٰ حقیقت میں اپنے کامل درجہ پر ایک موت ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۷ مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۰۴ ء صفحہ ۷ ) ولایت کا حصہ تقویٰ ہی پر ہے۔خدا تعالیٰ سے ترساں اور لرزاں ہو کر اگر اسے حاصل کرو گے تو کمال تک البدرجلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ء صفحه ۳) پہنچ جاؤ گے۔b اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ اَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللهِ فَسَيُنْفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ۔اور وہ تمام کا فر کہ جو دین اسلام کے روکنے اور بند کرنے کے لیے اپنے مالوں کو خرچ کر رہے ہیں وہ جہاں تک ان کا بس چلے گا خرچ کریں گے پر آخر کار وہ تمام خرچ ان کے لیے تاسف اور حسرت کا موجب ہوگا اور پھر مغلوب ہو جائیں گے۔برائین احمد یہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۶۳ حاشیہ نمبر ۱۱) وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَ يَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوا فَإِنَّ اللهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ۴۰ یعنی اس حد تک ان کا مقابلہ کرو کہ ان کی بغاوت دور ہو جائے اور دین کی روکیں اٹھ جائیں اور حکومت اللہ کے دین کی ہو جائے۔جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۵) وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدين محمد بله يعنی عرب کے ان مشرکوں کو قتل کرو یہاں تک کہ بغاوت باقی نہ رہ جاوے اور دین یعنی حکومت اللہ تعالی کی ہو جائے۔اس سے کہاں جبر نکلتا ہے اس