تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 276

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانفال باندھتے تھے اور مکر کر رہے تھے اور خدا بھی مکر کر رہا تھا اور خدا سب مکر کرنے والوں سے بہتر ہے۔برائن احمد یہ چہار صص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۷ حاشیہ نمبر ۱۱) اور اے پیغمبر اوہ وقت یاد کر جب کافر لوگ تجھ پر داؤ چلانا چاہتے تھے تا کہ تجھے گرفتار کر رکھیں یا تجھے مار ڈالیں اور یا تجھے جلا وطن کر دیں اور حال یہ تھا کہ کا فر تو قتل کے لیے اپنا داؤ کر رہے تھے اور خدا ان کو مغلوب کرنے کے لیے اپنا داؤ کر رہا تھا اور خدا سب داؤ کرنے والوں سے بہتر داؤ کرنے والا ہے جس کے داؤ میں سراسر مخلوق کی بھلائی ہے۔خَيْرُ المكرین یعنی ایسا مکر کرنے والا جس میں کوئی شر نہیں۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳۵،۲۳۴) (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۲) واضح رہے کہ اسلام کی لڑائیاں ایسے طور سے نہیں ہوئیں کہ جیسے ایک زبردست بادشاہ کمزور لوگوں پر چڑھائی کر کے ان کو قتل کر ڈالتا ہے بلکہ صحیح نقشہ ان لڑائیوں کا یہ ہے کہ جب ایک مدت دراز تک خدا تعالیٰ کا پاک نبی اور اس کے پیرو مخالفوں کے ہاتھ سے دکھ اٹھاتے رہے چنانچہ ان میں سے کئی قتل کئے گئے اور کئی برے برے عذابوں سے مارے گئے یہاں تک کہ ہمارے نبی صلعم کے قتل کرنے کے لئے منصوبہ کیا گیا اور یہ تمام کامیابیاں ان کے بتوں کے معبود برحق ہونے پر حمل کی گئیں اور ہجرت کی حالت میں بھی آنحضرت صلعم کو امن میں نہ چھوڑا گیا بلکہ خود آٹھ پڑاؤ تک چڑھائی کر کے خود جنگ کرنے کے لئے آئے تو اس وقت ان کے حملہ کے روکنے کے لئے اور نیز ان لوگوں کو امن میں لانے کے لئے جو اُن کے ہاتھ میں قیدیوں کی طرح تھے اور نیز اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے کہ ان کے معبود جن کی تائید پر یہ سابقہ کامیابیاں حمل کی گئی ہیں لڑائیاں کرنے کا حکم ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ اَوْ يَقْتُلُوكَ اَوْ يُخْرِجُوكَ ، وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَكِرِينَ (جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۴۴) وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمُ ايْتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاء لَقُلْنَا مِثْلَ هذا " إن هذا إلا أَسَاطِيرُ الأَوَّلِينَ لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هذا کہ اگر ہم چاہیں تو اس کی مانند کہہ دیں۔( نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۴۰)