تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 274

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۴ سورة الانفال تمہیں پاک کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہارا خدا صاحب فضل بزرگ ہے۔(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۷۸) روح القدس کے بارہ میں جو قرآن کریم میں آیات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ کے لئے کامل مومنوں کو روح القدس دیا جاتا ہے منجملہ ان کے ایک یہ آیت ہے۔۔۔۔۔۔یعنی اے وے لوگو! جو ایمان لائے ہو اگر تم تقویٰ اختیار کرو اور اللہ جل شانہ سے ڈرتے رہو تو خدا تعالیٰ تمہیں وہ چیز عطا کرے گا (یعنی روح القدس ) جس کے ساتھ تم غیروں سے امتیاز گلی پیدا کر لو گے اور تمہارے لئے ایک نور مقرر کر دے گا (یعنی روح القدس ) جو تمہارے ساتھ ساتھ چلے گا۔قرآن کریم میں روح القدس کا نام نور ہے۔آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۸،۹۷) اے ایمان لانے والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے انتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قومی اور حواس میں آ جائے گا تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ایک انکل کی بات میں بھی نور ہوگا اور تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہوگا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہوگا اور جن راہوں میں تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔غرض جتنی تمہاری را ہیں تمہارے قومی کی راہیں تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور میں ہی چلو گے۔اب اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ تقویٰ سے جاہلیت ہرگز جمع نہیں ہو سکتی۔ہاں ! فہم اور ادراک حسب مراتب تقوی کم و بیش ہو سکتا ہے۔اسی مقام سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بڑی اور اعلیٰ درجہ کی کرامت جو اولیاء اللہ کو دی جاتی ہے جن کو تقویٰ میں کمال ہوتا ہے وہ یہی دی جاتی ہے کہ ان کے تمام حواس اور عقل اور فہم اور قیاس میں نور رکھا جاتا ہے اور ان کی قوت کشفی نور کے پانیوں سے ایسی صفائی حاصل کر لیتی ہے کہ جو دوسروں کو نصیب نہیں ہوتی ان کے حواس نہایت باریک بین ہو جاتے ہیں اور معارف اور دقائق کے پاک چشمے ان پر کھولے جاتے ہیں اور فیض سائغ ربانی ان کے رگ وریشہ میں خون کی طرح جاری ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۷۷ تا ۱۷۹) ہو جاتا ہے۔