تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 242
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۲ سورة الاعراف ہے سو جو لوگ اس پر ایمان لاویں اور اس کو قوت دیں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی بکلی متابعت اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے۔وہی لوگ نجات یافتہ ہیں۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۶۶،۵۶۴) ص قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا بِالَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّبُوتِ وَ الْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِ وَيُمِيتُ فَأمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِى يُؤْمِنُ بِاللهِ وَ كَلِمَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (۱۵۹) یہ وسواس کہ خدا نے اپنی کتاب امیوں اور بدؤوں کے لیے بھیجی ہے ان کی سمجھ کے موافق چاہیے ) ٹھیک نہیں ہے۔اول تو اس میں یہ جھوٹ ہے کہ وہ کلام نرا امیوں کی تعلیم کے لیے نازل ہوا ہے خدا نے تو آپ ہی فرما دیا ہے کہ تمام دنیا اور مختلف طبائع کی اصلاح کے لیے یہ کتاب نازل ہوئی ہے جیسے امی اس کتاب میں مخاطب ہیں ایسے ہی عیسائی اور یہودی اور مجوسی اور صائمین اور لا مذہب اور دہریہ وغیرہ تمام فرقے مخاطب ہیں اور سب کے خیالات فاسدہ کا اس میں رد موجود ہے اور سب کو سنایا گیا ہے : قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ اِنّى رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا - الجز و نمبر ۹ پھر جبکہ ثابت ہے کہ قرآن شریف کو تمام دنیا کے طبائع سے کام پڑا تو تم خود ہی سوچو کہ اس صورت میں لازم تھا یا نہیں کہ وہ ہر ایک طور کی طبیعت پر اپنی عظمت اور حقانیت کو ظاہر کرتا اور ہر ایک طور کے شبہات کو مٹاتا۔ماسوا اس کے اگر چہ اس کلام میں امی بھی مخاطب ہیں مگر یہ تو نہیں کہ خدا امیوں کو امی ہی رکھنا چاہتا تھا بلکہ وہ یہ چاہتا تھا کہ جو طاقتیں انسانیت اور عقل کی ان کی فطرت میں موجود ہیں وہ مکمن قوت سے چیز فعل میں آجائیں۔اگر نادان کو ہمیشہ کے نادان ہی رکھنا ہے تو پھر تعلیم کا کیا فائدہ ہوا خدا نے تو علم اور حکمت کی طرف آپ ہی رغبت دے دی ہے۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۹۳ تا ۴۹۸) لوگوں کو کہہ دے کہ میں خدا کی طرف سے تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔وہ خدا جو بلا شرکت الغیری آسمان اور زمین کا مالک ہے جس کے سوا اور کوئی خدا اور قابل پرستش نہیں۔زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے پس اس خدا پر اور اس کے رسول پر جو نبی امی ہے ایمان لاؤ۔وہ نبی جو اللہ اور اس کے کلموں پر ایمان لاتا ہے اور تم اس کی پیروی کرو تا تم ہدایت پاؤ۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۶۷،۵۶۶)