تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 238

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہے اُس کا نام بھی خوار ہے۔۲۳۸ سورة الاعراف تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۷۹ تا ۳۸۱) خروج باب ۳۲ سے ثابت ہوتا ہے کہ گوسالہ سامری کے نیست و نابود کرنے کا ارادہ یہود کی عید کے دن میں کیا گیا تھا مگر آگ میں جلانا اور باریک پینا اور غبار کی مانند بنانا جیسا کہ ۳۲ خروج میں لکھا ہے یہ فرصت طلب کام تھا اس برے کام نے ضرور رات کا کچھ حصہ لیا ہوگا کیونکہ حضرت موسیٰ اس وقت اترے تھے جب گوسالہ پرستی کا میلہ خوب گرم ہو گیا تھا اور یہ وقت غالباً دو پہر کے بعد میں ہوگا اور پھر کچھ عرصہ ناراضگی اور غضب میں گذرا۔لہذا یہ قطعی امر ہے کہ سونے کا جلانا اور خاک کی طرح کرنا کچھ حصہ رات تک جو دوسرے دن میں محسوب ہوتے ہی ختم ہوا ہوگا۔(سراج منیر ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۶۸ حاشیه ) یہ گوسالہ بے جان ہے جس میں سے مہمل آواز آ رہی ہے پس اس کے لئے دکھ کی مار اور عذاب ہے۔استفتاء، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۱۱۸) اِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ۖ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ (۱۵۳) جنہوں نے گوسالہ پرستی کی ان پر غضب کا عذاب پڑے گا اور دنیا کی زندگی میں ان کو ذلت پہنچے گی اور اسی طرح ہم دوسرے مفتریوں کو سزا دیں گے اور یہ ایک لطیف اشارہ ان گوسالہ پرستوں کی طرف بھی ہے جو اس دوسرے گوسالہ یعنی لیکھرام کی پرستش کرنے میں ظلم اور خونریزی کے ارادوں تک پہنچ گئے خدا تعالی کے علم سے کوئی شے باہر نہیں وہ خوب جانتا تھا کہ ہندو بھی لیکھرام کی پرستش کر کے اس کو گوسالہ بنائیں گے اس لیے اس نے کذالک کے لفظ سے لیکھرام کے قصہ کی طرف اشارہ کر دیا۔توریت خروج باب ۳۲ آیت ۳۵ سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر گوسالہ پرستی کے سبب سے موت بھیجی تھی یعنی ایک وبا ان میں پڑ گئی تھی جس سے وہ مرگئے تھے اور اس عذاب کی خبر کے وقت اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جو لوگ ایمان لائیں گے میں ان کو نجات دوں گا جیسا کہ فرماتا ہے : وَالَّذِینَ عَمِلُوا السَّيَّاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِهَا وَ امَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِیمُ یعنی جنہوں نے گوساله پرستی کی دھن میں برے کام کیے پھر بعد اس کے تو بہ کی اور ایمان لائے تو خدا تعالیٰ ایمان کے بعد ان کے گناہ بخش دے گا اور ان پر رحم کرے گا کیونکہ وہ نغفور اور رحیم ہے۔(سراج منیر، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۷۰)