تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 171
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ الانعام اس آیت سے بھی انبیاء کے دشمن مجرمین کے لفظ سے پکارے گئے ہیں اور اس لیے یہودی بھی مجرم ٹھہرتے ہیں کیونکہ وہ بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے جانی دشمن تھے اور آنحضرت کے بھی دشمن تھے۔عیسائی نامہ نگاروں کو اپنے اس بیہودہ قول سے شرم کرنی چاہیے کہ قرآن شریف میں جرم کا لفظ یہودیوں کی طرف منسوب نہیں کیا گیا۔ان کا یہ قول بھی ایسا ہی بیہودہ ہے جیسا کہ ان کا پہلا قول کہ جرم کا لفظ قرآن شریف میں آیا ہی نہیں۔اس سے عیسائی نامہ نگاروں نے صرف اپنی کم علمی کا ہی ثبوت نہیں دیا بلکہ اپنی کم نہی کا بھی ثبوت دیا ہے اگر قرآن شریف میں یہودیوں کی نسبت جرم لفظ نہ بھی آتا تو کیا پھر وہ انبیاء سے مساوی ٹھہر سکتے تھے ؟ خدا ان کی نسبت ان کی بد عملی اور بدی بیان کرتے ہوئے ہر ایک لفظ سے کام لیتا ہے جو خیال میں آسکتا ہے ان کو فاسق ، ملعون ، کافر ، معتدین، شیاطین ، ظالم، بندر، مغضوب علیہم وغیرہ بیان کرتا ہے۔ان الفاظ کے مقابل اگر قرآن شریف یہودیوں کی نسبت جرم کا لفظ نہ بھی بیان کرتا تو کیا وہ انبیاء کی طرح بے گناہ ثابت ہو سکتے تھے جن کے متعلق ان الفاظ میں سے کوئی بھی استعمال نہیں ہوا۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۲ نمبر ۶ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۴۹،۲۴۸) فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُلْ رَّبِّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةِ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُه عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ اگر یہ لوگ تکذیب پر کمر بستہ ہوں تو ان کو کہہ دے کہ اگر تم ایمان لاؤ تو خدا کی وسیع رحمت سے تمہیں حصہ ملے گا اور اگر تکذیب سے باز نہ آؤ تو اس کا عذاب ایسا نہیں کہ کسی حیلہ اور تدبیر سے مل سکے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۳۳، ۲۳۴ حاشیه ) قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ اَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إحْسَانًا ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ، ذلِكُمْ وَضَكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ۔لا تَقْتُلُوا اولادكم۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔(۱۵۲) (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۶،۳۳۵)